Skip to main content

اسرائیل میں موت کی سزا کا متنازع بل منظوری کے قریب

World | Deutsche Welle

اسرائیل کی پارلیمانی کمیٹی نے 25 مارچ 2026 کو دہشت گردی کے مرتکب افراد کے لیے موت کی سزا کا حتمی مسودہ منظور کر دیا ہے، جو اس ہفتے کنیسٹ میں جماعتی اکثریت کے باعث قانون بن سکتا ہے۔ بل نفاذ کے دو راستے رکھتا ہے — عام فوجداری عدالتیں اور مغربی کنارے کی فوجی عدالتیں — اور وہاں مقدمہ چلنے والے فلسطینیوں کے لیے سزائے موت لازمی قرار دی گئی ہے۔ منتقدین اسے غیر انسانی، امتیازی اور بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دے رہے ہیں۔

اسرائیل کی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی نے 25 مارچ 2026 کو "دہشت گردوں کے لیے موت کی سزا" کے ترمیمی مسودے کا حتمی متن منظور کیا؛ بل اس ہفتے کنیسٹ کی دوسری اور تیسری خواندگی سے گزر کر قانون بن سکتا ہے۔

بل کا خلاصہ

مسودہ سزا کی حد کم کرتا ہے اور اسے ایسے حملوں پر نافذ کرنے کی ساخت وضع کرتا ہے جن میں جانوں کا ضیاع اور ریاست کے وجود کو رد کرنے کا ارادہ شامل ہو۔ قانون دو ٹریک رکھتا ہے: اسرائیلی فوجداری عدالتیں اور مقبوضہ مغربی کنارے کی فوجی عدالتیں۔ فوجی عدالتوں میں مقدمات میں موت کی سزا لازمی رکھی گئی ہے، اور کمیٹی کی مسودہ شقیں سزائے موت کو معمولی طور پر کم کرنے کے بدل میں سخت شرائط اور محدود اپیل کا راستہ فراہم کرتی ہیں۔

یہ بل انتہاپسند دائیں بازو کی جماعتوں نے Sponsorship کی ہے اور موجودہ حکومت کے پاس اسے پاس کرانے کے لیے ضروری ووٹ موجود بتائے جاتے ہیں۔ اسرائیلی انسانی حقوق تنظیمیں اور کمیٹی کے قانونی مشیر نے بل کی اخلاقی، آئینی اور بین الاقوامی قانونی مطابقت پر سخت اعتراضات کیے ہیں؛ بی ٹی سیلیم نے فوجی عدالتوں میں 96 فیصد تک کی سزائے جرم کی شرح اور جبری اقرار کے امکانات کی نشاندہی کی ہے، جبکہ حمولہ کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے وسط تک جیلوں میں قیدیوں کی اموات بھی ریکارڈ ہیں۔

عملی نفاذ کے حوالے سے مسودہ کے تحت پھانسی کو نافذ کرنے کی مدت 90 روز رکھی گئی ہے اور وزیراعظم مخصوص حالات میں تاخیر کی درخواست کر سکتا ہے۔ بل کا اطلاق ماضی کے واقعات پر اصل میں مؤثر نہیں ہوگا، البتہ ایک علیحدہ مجوزہ قانون مخصوص مقدمات کے لیے خصوصی فوجی ٹریبونل قائم کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں اور یورپی یونین نے بل پر تشویش ظاہر کی ہے اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے اسے واپس لینے کی اپیل کی ہے، جبکہ فلسطینی اور اسرائیلی منتقدین اسے امتیازی اور خطرناک قرار دے رہے ہیں۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...