اشاعتیں

مغربی کنارے: اسرائیلی آبادکاروں نے گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، فلسطینیوں پر حملے

تصویر
22 مارچ 2026 کو عید الفطر کے موقع پر مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مکانات، عمارات اور گاڑیاں جلا دی گئیں جبکہ روکنے والوں کو مارا اور مرچیں چھڑکیں گئیں۔ فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے مطابق کم از کم تین افراد اسپتال پہنچائے گئے اور جانی و مالی نقصان وسیع رہا۔ فوج علاقوں میں تعینات کی گئی مگر حکام نے کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں دی۔ 22 مارچ 2026 کو عید الفطر کے دن مغربی کنارے کے نزدیک چند مقامات پر اسرائیلی آبادکاروں نے حملے کیے، جن میں عمارات، گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگانے اور احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو پیٹنے اور مرچیاں چھڑکنے کی وارداتیں شامل ہیں۔ پیلستینی ریڈ کریسنٹ کے مطابق کم از کم تین افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا اور علاقے میں پراپرٹی کا نقصان نمایاں رہا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی وافا نے کہا کہ چھ کمیونٹیاں نشانہ بنیں، واقعات جنین اور نابلس کے قریب مختلف مقامات پر ہوئے۔ فوجی ردعمل اور تنقید اسرائیلی فوج نے چند فلسطینی دیہاتوں میں فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ تعیناتی ع...

بحیرہ روم میں بے قابو روسی ٹینکر ماحولیاتی خطرہ

تصویر
روس کے ٹینکر 'آرکٹک میٹاگیاز' حملے کے بعد ٹریکنگ بند ہو گئی اور جہاز لیبیا کے ساحل کی جانب بہہ رہا ہے، جس پر بڑی مقدار ایندھن اور گیس موجود ہے۔ عملہ محفوظ نکال لیا گیا مگر جہاز میں آگ، دھماکوں اور لیکیج کی اطلاعات ہیں۔ یورپی ملکوں، لیبیا اور امدادی گروپوں نے فوری کنٹرول اور صفائی کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ روس کے گیس ٹینکر آرکٹک میٹاگیاز کو مبینہ طور پر یوکرینی ڈرون حملے کے بعد شدید نقصان پہنچا، اس کی پوزیشن کا پتہ نہیں چل رہا اور وہ لیبیا کی طرف بہہ رہا ہے — اس واقعے سے بحیرہ روم میں سنگین ماحولیاتی آفت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ روسی ٹرانسپورٹ منسٹری کے مطابق جہاز میں بڑی سائیڈ کا سوراخ اور آگ دیکھی گئی، 30 رکنی عملہ نکال لیا گیا تھا اور بحری ریکارڈز مارچ کے آغاز کے بعد غیر فعال ہو گئے۔ اطالوی حکام نے اطلاع دی ہے کہ ٹینکر لیبیا کے قریب بہہ رہا ہے جبکہ روسی دفتر نے بتایا ہے کہ جہاز پر 450 ٹن ہیوی فیول، 250 ٹن ڈیزل اور قابلِ ذکر مقدار میں گیس موجود ہے، اور دھماکوں اور لیکیج کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ لی...

پراگ میں بڑے مظاہرے، بابِش پر جمہوری خطرات کا الزام

تصویر
چیک دارالحکومت پراگ میں ہزاروں افراد نے وزیر اعظم اندرے بابِش اور ان کی اکثریتی اتحاد کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا، جنھیں مظاہرین جمہوری اقدار سے دور جانے اور ہنگری و سلوواکیہ جیسی پرو-روسی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگی کا الزام دے رہے ہیں۔ منتظمین نے لیٹنا میدان میں دو لاکھ سے زائد افراد ہونے کا دعویٰ کیا۔ مظاہرین نے سرکاری میڈیا، ریاستی اداروں اور متوقع 'غیر ملکی ایجنٹ' قانون پر تشویش ظاہر کی؛ پارلیمنٹ کی طرف سے بابِش کی قانونی چھوٹ برقرار رکھنے نے احتجاج کو ہوا دی۔ پراگ میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا جس میں ہزاروں افراد نے وزیر اعظم اندرے بابِش اور ان کی قیادت میں بننے والی اکثریتی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی، اور ان کے رویے کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا۔ منتظمین 'ملین مومنٹس فار ڈیموکریسی' نے دعویٰ کیا کہ لیٹنا میدان میں دو لاکھ سے زائد افراد جمع ہوئے، حالانکہ یہ اعداد و شمار آزاد طور پر تصدیق شدہ نہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت ملک کو ہنگری اور سلوواکیہ کی پرو-روسی سمت کی طرف لے جا رہی ...

کیوبا میں ایک ہفتے میں دوسری بار پورے جزیرے کا بلیک آؤٹ

تصویر
کیوبا بھر میں قومی برقی نظام پھر منقطع ہو گیا، جس سے لاکھوں شہری تاریکی میں رہ گئے۔ یہ ایک ہفتے کے اندر جزیرے کا دوسرا اور اس ماہ تیسرا جزوی یا مکمل بلیک آؤٹ ہے، ریاستی کمپنی یونین الیکٹرکا نے شام 18:32 (22:32 یو ٹی سی) پر مکمل منقطع ہونے کی اطلاع دی۔ طویل المدتی انفراسٹرکچر خرابیوں، ایندھن کی کمی اور امریکہ کی تیل امپورٹس پر عائد پابندی کو بحران کی بنیادی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔ لاکھوں کیوباؤں کا قومی برقی نظام ہفتے کو دوبارہ منقطع ہو گیا، جو ایک ہی ہفتے میں پورے جزیرے کا دوسرا بلیک آؤٹ اور اس ماہ تیسرا بڑا تعطل تھا۔ ریاستی کمپنی یونین الیکٹرکا نے شام 18:32 پر قومی گرڈ کی مکمل منقطع ہونے کی اطلاع جاری کی۔ پچھلے دو برس سے بار بار آنے والے قومی اور علاقائی بلیک آؤٹس معمول بن چکے ہیں، جس کی وجہ جزیرے کی پرانی اور خراب ہوتی بجلی پیدا کرنے والی تنصیبات بتائی جاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں روزانہ بیس گھنٹے تک بجلی غائب رہنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ پس منظر کیوبا اپنی ضروری ایندھن کی صرف 40 فیصد پیدا کرتا ہے ا...

طالبان نے برلن میں نیا قائم مقام سفارت کار تعینات کیا

تصویر
جرمن براڈکاسٹر ARD کے مطابق طالبان کے ایک رکن نبراسول ح. کو برلن میں افغان سفارت خانے کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا، جبکہ جرمن حکومت اس تقرری سے لاعلم رہی۔ نبراسول گزشتہ سال جولائی میں ایک کم سطحی قونصلی اہلکار کے طور پر آئے تھے اور جرمنی نے اسی عہدے کے لیے منظوری دی تھی، مگر ARD کے مطابق خفیہ دستاویزات دکھاتی ہیں کہ وہ چارج ڈی’افئرس کے طور پر دستخط اور کارروائی کر رہے ہیں۔ رپورٹس میں سابق سربراہ عبدل پ. کو ہٹاکر نمائشی عہدہ دے دیا گیا اور بنّن میں بھی ایک اہلکار غیر رسمی طور پر قونصل جنرل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پبلک براڈکاسٹر ARD نے اطلاع دی ہے کہ طالبان کے رکن نبراسول ح. کو برلن میں افغان سفارت خانے کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا، اور اس بارے میں جرمن حکومت کو باخبر نہیں رکھا گیا۔ یہ تعیناتی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برلن طالبان کو افغان حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ ARD کے مطابق نبراسول گزشتہ سال جولائی میں دو کم سطحی قونصلی اہلکاروں میں سے ایک کے طور پر جرمن اجازت سے پہنچے تھے، تا کہ ناکام پناہ ...

اسرائیل نے ایرانی وزیرِ انٹیلی جنس ہلاک کرنے کا دعویٰ؛ تہران میں علی لاریجانی اور دیگر کا جنازہ

خلاصہ: اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ان کے حملے میں ایران کے وزیرِ برائے انٹیلیجنس اسماعیل خطیب ہلاک ہوگئے، تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔ تہران میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی، بسیج کے کمانڈر میجر جنرل غلام رضا سلیمانی اور بحری اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی ہے اور کشیدگی کے دوران متعدد حملوں اور وارننگز رپورٹ ہوئیں۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع نے بیان دیا ہے کہ گزشتہ رات ایران کے وزیرِ برائے انٹیلیجنس اسماعیل خطیب کو ہلاک کر دیا گیا، مگر ایرانی حکام نے اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ خطیب کو سنہ 2021 میں وزیرِ انٹیلیجنس مقرر کیا گیا تھا اور امریکی محکمۂ خزانہ نے سنہ 2022 میں ان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ تہران میں نمازِ جنازہ ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی، بسیج کے کمانڈر میجر جنرل غلام رضا سلیمانی اور بحریہ کے درجنوں اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے، اس بارے میں خبر رساں ادارے تسنیم نے اطلاع دی۔ رپورٹ کے مطابق علی لاریجانی 17 مارچ کو اپنے ب...

ایران–امریکہ–اسرائیل تنازع اور ابھرتا نیا عالمی توازن

خلاصہ: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تصادم سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ روایتی بین الاقوامی ضوابط اور اداروں کا اثر کم ہو رہا ہے اور فیصلے زیادہ تر فوجی و سکیورٹی حسابات سے متاثر نظر آتے ہیں۔ اس کشمکش نے خطے اور عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کیے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز میں رکاوٹ اور تیل و گیس کی منڈیوں میں اضطراب شامل ہیں۔ عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے قواعد اور بین الاقوامی اداروں کے تحت طاقت کے استعمال کو جواز دینے کا رجحان رہا ہے، مگر حالیہ ایران–امریکہ–اسرائیل تنازع میں وہ روایتی فریم ورک کم مؤثر دکھائی دیتا ہے اور فریق زیادہ تر سکیورٹی اور عسکری حساب سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ فریقوں کا طرز عمل ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے سخت پابندیوں کے باوجود اپنا تیل برآمد کرنے اور علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے طریقے وضع کر چکا ہے۔ ماضی میں تہران عام طور پر ایسے ردعمل دیتا آیا ہے جو کشیدگی کو مکمل علاقائی جنگ میں نہ لے جائے، اور بعض اوقات کارروائیوں سے پہلے نان اَفیشل انتباہات بھی جاری کیے گئے۔ اسرائیل کی فوجی حکمتِ عملی روایتی طور پر تیز اور فیصلہ کن کارروائیوں پر مبنی رہی ہے، اور اس کے حالی...