اشاعتیں

نیپال کے نئے وزیر اعظم اور بین الاقوامی توازن

تصویر
بیلن کے نام سے مشہور 35 سالہ بالندرہ شاہ نے بطور وزیر اعظم حلف اٹھا لیا ہے۔ اس کی جماعت، راسٹرِیا سواتنترا پارٹی، نے حالیہ انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی اور اب نئی حکومت کو بھارت، چین اور امریکہ کے درمیان دلّی، بیجِنگ اور واشنگٹن کے توازن کو برقرار رکھتے ہوئے اقتصادی ترقی اور بدعنوانی کے خلاف وعدے پورا کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ غیر روایتی قیادت خارجہ پالیسی میں نظریاتی تعصبات نہیں لائے گی مگر جغرافیائی سیاست پیچیدہ رہ سکتی ہے۔ بیلن کے نام سے مشہور 35 سالہ بلندر شاہ نے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے اور اپنی نوجوان قیادت کے ساتھ ایک ایسے مرحلے پر اقتدار سنبھالا ہے جس میں اسے بھارت، چین اور امریکہ کے ساتھ نازک توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ اس کی جماعت راسٹرِیا سواتنترا پارٹی، جو 2022 میں قائم ہوئی، نے پارلیمنٹ کی نچلی مجلس میں 82 نشستیں جیتیں۔ اس انتخابی نتیجے نے روایتی سیاسی طبقات کو چیلنج کیا؛ سابق وزیراعظم کے پی شرمہ اولی کی جماعت اب کافی کم نشستیں لے سکی۔ شاہ خود پیشے سے انجینئر اور...

ایران جنگ سے عالمی تیل رسد پر شدید دباؤ

تصویر
عالمی توانائی ادارے کے سربراہ نے ایران جنگ کو توانائی سکیورٹی کے لیے بے مثال خطرہ قرار دیا ہے۔ خلیج میں ہرمز کے قریب بندش کے باعث عالمی تیل کی فراہمی میں تقریباً 8 فیصد کمی آئی ہے اور ابتدائی کمی روزانہ 11 ملین بیرل تھی جو ایمرجنسی ذخائر کی رہائی سے 8 ملین تک کم ہوئی۔ جنگ سے 40 سے زائد توانائی تنصیبات متاثر ہوئیں، کچھ سائٹس کو دوبارہ چلانے میں مہینے یا سال درکار ہوں گے، جس سے قلیل مدتی مہنگائی اور صنعتی پیداوار میں سست روی کا خدشہ ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق ایران جنگ نے توانائی کی فراہمی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور اس وقت تیل کی عالمی رسد میں بڑا خلل آیا ہے؛ ابتدائی تخمینے میں روزانہ 11 ملین بیرل کا کم پڑنا بتایا گیا جبکہ ہرمز میں جزوی بندش سے لگ بھگ 8 فیصد کمی ہوئی ہے۔ تاریخی موازنہ اور حفاظتی ذخائر ماہرین کہتے ہیں کہ 1970 کی دہائی کے صدمات کے مقابلے میں رسد کی کمی فی صد بنیاد پر زیادہ ہے، مگر اس بار تیل کی قیمتیں اسی حد تک نہیں بڑھی کیونکہ مارکیٹ زیادہ متنوع ہوگئی، اوپیک کا حصہ کم ہوا اور...

بھارت: سیلاب، بے گھری اور شناخت کا خطرہ

تصویر
بھارت کے شمال مشرقی اور مشرقی حصوں میں بار بار آنے والے سیلاب اور دریا کنارے کا کٹاؤ گھر، کھیت اور اہم کاغذات بہا لے جاتا ہے۔ آسام اور بہار کے متاثرین عموماً عارضی امداد پر انحصار کرتے ہیں جبکہ غریب، درج ذیل برادریاں اور مذہبی اقلیتیں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ دستاویزات کا ضیاع بعض خاندانوں کو شہریت یا قانونی تنازعات میں دھکیل دیتا ہے، اور ماہرین طویل المدتی مزاحمت کی کمی کی انتباہی نشاندہی کرتے ہیں۔ گزشتہ سال برہمپترا کے سیلاب نے آسام کے گاؤں کھربلی کی بہت سی آبادی دوبارہ بے گھر کر دی۔ مقامی رہنے والے عام طور پر بارہا اپنے گھر دوبارہ تعمیر کرتے ہیں؛ مثال کے طور پر امیر حسین، 47، نے بتایا کہ اس کا گھر کنارے کے کٹاؤ کی وجہ سے متعدد بار تباہ ہوا۔ سیلاب صرف املاک ہی نہیں چھینتے بلکہ کھیت، مویشیاں اور روزگار بھی متاثر ہوتے ہیں، اور متاثرہ گھرانے اکثر دریا کے پیچھے چھوڑی گئی تنگ پٹیوں یا کرائے کی زمین پر دوبارہ بس جاتے ہیں۔ متاثرین اور قانونی خطرات دستاویزات کے ضیاع کا براہِ راست قانونی نتیجہ بھی نکل سکتا ہے۔ ...

امریکی عدالت نے پینٹاگون کی اینتھروپک پابندیاں معطل کر دیں

تصویر
سان فرانسِسکو کی عدالت نے عارضی طور پر پینٹاگون کی اینتھروپک کے خلاف کارروائی کو روکا ہے؛ جج نے قرار دیا کہ کمپنی کو سرکاری تنقید کی وجہ سے سزا دینا اظہار رائے کے حقوق کی خلاف ورزی معلوم ہوسکتی ہے۔ حکم سات دن بعد نافذ ہوگا، جس سے حکومت کو اپیل کا موقع ملے گا۔ تنازعہ کمپنی کے حفاظتی حدود اور فوجی استعمال کی پابندیوں سے شروع ہوا تھا۔ ایک امریکی عدالت نے پینٹاگون کی طرف سے اینتھروپک کو ''قومی سلامتی کے لیے رسد کی زنجیر کا خطرہ'' قرار دینے سے متعلق پابندیوں پر عارضی طور پر روک لگادی ہے؛ سزا کے اس فیصلے کو روکنے والا عارضی حکم سات دن میں نافذ ہوگا اور اس دوران حکومت اپیل کر سکتی ہے۔ جج ریتا لن نے کہا کہ حکومت اینتھروپک کی مصنوعات استعمال نہ کرنے کا انتخاب کر سکتی ہے، مگر کمپنی کو سرعام حکومت پر تنقید کرنے پر سزا دینا ممکنہ طور پر آئینی طور پر ناقابلِ قبول ہے اور یہ فیصلہ بے بنیاد معلوم ہوتا ہے۔ اینتھروپک کے ترجمان نے عدالت کے تیز فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ کمپنی امریکیوں کے لیے محفو...

حوثی احتیاط: ایران جنگ میں فی الحال مداخلت نہیں

تصویر
حوثی عسکریت پسند گروپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں فوری فوجی مداخلت سے گریز کیا ہوا ہے، حالانکہ اس نے تہران کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رویہ مقامی مفادات، عسکری کمزوری، سعودی مذاکرات اور امریکی-اسرائیلی ردِعمل کے خوف کی وجہ سے ہے۔ البتہ لاحق امکان موجود ہے کہ مستقبل میں ریڈ سی میں بحری حملوں کے ذریعے تنازعہ پھیلایا جائے، جس کے علاقائی اور عالمی توانائی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ حوثی رہنماؤں نے ایران کی حمایت کا اظہار کیا اور ممکنہ اقدامات کی دھمکی دی ہے، فی الوقت وہ ایران میں جاری جنگ میں براہِ راست دخل اندازی نہیں کر رہے۔ ماہرین اس احتیاط کو گروپ کے موجودہ طرزِ عمل کا مرکزی پیغام قرار دے رہے ہیں۔ تحلیل کاروں کا کہنا ہے کہ فیصلہ بنیادی طور پر مقامی اور عملی مفادات کی بنیاد پر ہے: حوثیوں کو خطے میں اپنی پوزیشن، شمالی یمن میں داخلی کشیدگی، سعودی عرب کے ساتھ جاری مذاکرات اور امریکی فضائی مداخلت و اسرائیلی کارروائیوں سے پہنچنے والے نقصان کا خیال ہے۔ تجزیہ کار لوکا نیوولا اور فلپ ...

2025 میں یورپی نیٹو دفاعی اخراجات میں تقریباً 20 فیصد اضافہ

تصویر
نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک رٹے کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں یورپ اور کینیڈا کی دفاعی اخراجات حقیقی بنیادوں پر تقریباً 20 فیصد بڑھ کر 574 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ امریکی دفاعی خرچ تھوڑا کم ہوا مگر پھر بھی اتحاد کے مجموعی اخراجات کا بڑا حصہ رہا، اور تمام رکن ممالک نے سالانہ 2 فیصد جی ڈی پی ہدف پورا کیا۔ نیٹو کے جنرل سیکریٹری مارک رٹے نے براسلز میں جاری اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2025 میں یورپ اور کینیڈا نے دفاعی اخراجات میں حقیقی مدت کے اعتبار سے تقریباً 20 فیصد اضافہ کیا اور مجموعی طور پر 574 بلین ڈالر خرچ کیے۔ اہم اعداد و شمار رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی خرچ 2025 میں معمولی کمی کے ساتھ 838 بلین ڈالر رہا، مگر پھر بھی نیٹو کے کل خرچ کا سب سے بڑا حصہ برقرار رہا اور اس کا حصہ 2024 کے 64 فیصد سے کم ہو کر 59 فیصد رہ گیا۔ یورپ اور کینیڈا کی مجموعی مدّ میں اضافے کی شرح دوسری سال بھی زیادہ رہی۔ بعض ممالک نے محض 2.00–2.05 فیصد جی ڈی پی کے ساتھ ہدف پورا کیا، جبکہ پولینڈ، لتھوانیا، لٹویا، ایسٹونیا، ڈنمارک اور ناروے ...

ایران جنگ کے بعد بھارت میں سوشل میڈیا سنسرشپ میں اضافہ

تصویر
حالیہ ہفتوں میں بھارت میں سوشل میڈیا پوسٹس کی بڑے پیمانے پر حذف یا پابندیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو حکومت کی امریکہ-اسرائیل کے ایرانی حملوں پر خاموشی کی تنقید کرتی تھیں۔ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے 19 مارچ تک کم از کم 42 ایسے واقعات ریکارڈ کیے، جبکہ محققین کے مطابق فروری کے بعد سے مجموعی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ حکومتی کارروائیاں قومی سلامتی اور عوامی نظم کے جواز پر مبنی ہیں، مگر احکامات شفاف نہیں کیے جاتے اور ناقدین اسے اظہارِ رائے پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ حالیہ دو ہفتوں میں بھارت میں ایسی پوسٹس اور اکاؤنٹس کی ہٹانے کی لہر سامنے آئی ہے جو حکومت کی ایران پر ہونے والے امریکی-اسرائیلی حملوں پر خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتی تھیں۔ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے مطابق 11 مارچ کے آس پاس پابندیوں میں اضافہ شروع ہوا اور 19 مارچ تک کم از کم 42 واقعات دستاویز کیے گئے تھے۔ حذف کی گئی چیزوں میں سیاسی کارٹون، طنزیہ ویڈیوز، اپوزیشن کے بیانات اور بعض ریٹائرڈ افسران یا مخالف رہنماؤں کے اے آئی سے بنائے گئے مواد شامل ہیں۔ مثال کے ط...