خلیج کے ممالک: ایران کے حملوں کے بعد امریکی اڈوں اور عسکری اتحاد پر بحث
ریاض میں ہنگامی اجلاس کے بعد خلیجی ممالک نے ایران کے حالیہ حملوں کے تناظر میں امریکی فوجی اڈوں اور عسکری تعاون پر بحث شروع کر دی ہے۔ ایرانی حملوں میں قطر کا ایک بڑا توانائی ہب بھی نشانہ بنا، جس کے بعد سعودی حکام نے کہا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے اور مشکلات کے باوجود سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔ خطے میں امریکہ کے ذریعے فراہم کی جانے والی سکیورٹی پر سوال اٹھے ہیں، جس سے خلیجی حکمتِ عملی اور متبادل شراکت داریوں پر ازسرنو غور متوقع ہے۔ ریاض میں منعقدہ ہنگامی اجلاس میں عرب اور اسلامی وزرائے خارجہ کا مرکزی مسئلہ ایران تھا، اور شرکاء نے حالیہ ایرانی کارروائیوں کے بعد امریکی اڈوں اور ممکنہ عسکری اتحاد کی افادیت پر گفت و شنید شروع کر دی۔ گذشتہ روز ایران نے ایک بڑے توانائی ہب کو قطر میں ہدف بنایا، جس سے پہلے اسرائیل نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس میدان پر حملہ کیا تھا۔ سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اجلاس کے بعد بتایا کہ سعودی برداشت کم ہو رہی ہے، ملک سفارتی راس...