اشاعتیں

طالبان نے برلن میں نیا قائم مقام سفارت کار تعینات کیا

تصویر
جرمن براڈکاسٹر ARD کے مطابق طالبان کے ایک رکن نبراسول ح. کو برلن میں افغان سفارت خانے کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا، جبکہ جرمن حکومت اس تقرری سے لاعلم رہی۔ نبراسول گزشتہ سال جولائی میں ایک کم سطحی قونصلی اہلکار کے طور پر آئے تھے اور جرمنی نے اسی عہدے کے لیے منظوری دی تھی، مگر ARD کے مطابق خفیہ دستاویزات دکھاتی ہیں کہ وہ چارج ڈی’افئرس کے طور پر دستخط اور کارروائی کر رہے ہیں۔ رپورٹس میں سابق سربراہ عبدل پ. کو ہٹاکر نمائشی عہدہ دے دیا گیا اور بنّن میں بھی ایک اہلکار غیر رسمی طور پر قونصل جنرل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پبلک براڈکاسٹر ARD نے اطلاع دی ہے کہ طالبان کے رکن نبراسول ح. کو برلن میں افغان سفارت خانے کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا، اور اس بارے میں جرمن حکومت کو باخبر نہیں رکھا گیا۔ یہ تعیناتی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برلن طالبان کو افغان حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ ARD کے مطابق نبراسول گزشتہ سال جولائی میں دو کم سطحی قونصلی اہلکاروں میں سے ایک کے طور پر جرمن اجازت سے پہنچے تھے، تا کہ ناکام پناہ ...

اسرائیل نے ایرانی وزیرِ انٹیلی جنس ہلاک کرنے کا دعویٰ؛ تہران میں علی لاریجانی اور دیگر کا جنازہ

خلاصہ: اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ان کے حملے میں ایران کے وزیرِ برائے انٹیلیجنس اسماعیل خطیب ہلاک ہوگئے، تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔ تہران میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی، بسیج کے کمانڈر میجر جنرل غلام رضا سلیمانی اور بحری اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی ہے اور کشیدگی کے دوران متعدد حملوں اور وارننگز رپورٹ ہوئیں۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع نے بیان دیا ہے کہ گزشتہ رات ایران کے وزیرِ برائے انٹیلیجنس اسماعیل خطیب کو ہلاک کر دیا گیا، مگر ایرانی حکام نے اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ خطیب کو سنہ 2021 میں وزیرِ انٹیلیجنس مقرر کیا گیا تھا اور امریکی محکمۂ خزانہ نے سنہ 2022 میں ان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ تہران میں نمازِ جنازہ ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی، بسیج کے کمانڈر میجر جنرل غلام رضا سلیمانی اور بحریہ کے درجنوں اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے، اس بارے میں خبر رساں ادارے تسنیم نے اطلاع دی۔ رپورٹ کے مطابق علی لاریجانی 17 مارچ کو اپنے ب...

ایران–امریکہ–اسرائیل تنازع اور ابھرتا نیا عالمی توازن

خلاصہ: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تصادم سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ روایتی بین الاقوامی ضوابط اور اداروں کا اثر کم ہو رہا ہے اور فیصلے زیادہ تر فوجی و سکیورٹی حسابات سے متاثر نظر آتے ہیں۔ اس کشمکش نے خطے اور عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کیے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز میں رکاوٹ اور تیل و گیس کی منڈیوں میں اضطراب شامل ہیں۔ عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے قواعد اور بین الاقوامی اداروں کے تحت طاقت کے استعمال کو جواز دینے کا رجحان رہا ہے، مگر حالیہ ایران–امریکہ–اسرائیل تنازع میں وہ روایتی فریم ورک کم مؤثر دکھائی دیتا ہے اور فریق زیادہ تر سکیورٹی اور عسکری حساب سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ فریقوں کا طرز عمل ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے سخت پابندیوں کے باوجود اپنا تیل برآمد کرنے اور علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے طریقے وضع کر چکا ہے۔ ماضی میں تہران عام طور پر ایسے ردعمل دیتا آیا ہے جو کشیدگی کو مکمل علاقائی جنگ میں نہ لے جائے، اور بعض اوقات کارروائیوں سے پہلے نان اَفیشل انتباہات بھی جاری کیے گئے۔ اسرائیل کی فوجی حکمتِ عملی روایتی طور پر تیز اور فیصلہ کن کارروائیوں پر مبنی رہی ہے، اور اس کے حالی...

پراگ میں 'غیر ملکی ایجنٹ' قانون کے خلاف بڑا مظاہرہ متوقع

تصویر
چیک دارالحکومت پراگ میں ہفتہ کو حکومت کے ممکنہ 'غیر ملکی ایجنٹ' قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرہ متوقع ہے۔ منتظمین اور بڑی این جی اوز کا کہنا ہے کہ مسودہ روسی طرز کے ضوابط کی یاد دلاتا ہے، سول سماج کو بدنام کرے گا اور کام کرنے میں خوف پیدا کرے گا۔ حکومت شفافیت کا جواز دیتی ہے، جبکہ ناقدین پابندیوں، بھاری جرمانوں اور غیر ملکی میڈیا کی خاموشی کو خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ پراگ میں منتظمین نے ہفتہ کو لیٹنا میدان میں بڑی ریلی بلائی ہے جو دارالحکومت میں حالیہ برسوں کی ممکنہ بڑی احتجاجی تحریکوں میں شمار ہو سکتی ہے۔ مظاہرین کا مرکزِ مطالبہ مسودہ 'غیر ملکی ایجنٹ' قانون ہے جسے سیکڑوں تنظیمیں اور شہری حقوق کے گروپ ڈیموکریسی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ مسودہ قانون کے نکات قانون کے مسودے کے تحت غیرملکی روابط یا فنڈنگ رکھنے والے افراد اور اداروں کو رجسٹر کروانا لازم ہو گا، اور عدم تعمیل پر 15 ملین کراؤن یا سالانہ آمدنی کا 10 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بنیادی طور پر حقوقِ ان...

خلیج کے ممالک: ایران کے حملوں کے بعد امریکی اڈوں اور عسکری اتحاد پر بحث

تصویر
ریاض میں ہنگامی اجلاس کے بعد خلیجی ممالک نے ایران کے حالیہ حملوں کے تناظر میں امریکی فوجی اڈوں اور عسکری تعاون پر بحث شروع کر دی ہے۔ ایرانی حملوں میں قطر کا ایک بڑا توانائی ہب بھی نشانہ بنا، جس کے بعد سعودی حکام نے کہا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے اور مشکلات کے باوجود سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔ خطے میں امریکہ کے ذریعے فراہم کی جانے والی سکیورٹی پر سوال اٹھے ہیں، جس سے خلیجی حکمتِ عملی اور متبادل شراکت داریوں پر ازسرنو غور متوقع ہے۔ ریاض میں منعقدہ ہنگامی اجلاس میں عرب اور اسلامی وزرائے خارجہ کا مرکزی مسئلہ ایران تھا، اور شرکاء نے حالیہ ایرانی کارروائیوں کے بعد امریکی اڈوں اور ممکنہ عسکری اتحاد کی افادیت پر گفت و شنید شروع کر دی۔ گذشتہ روز ایران نے ایک بڑے توانائی ہب کو قطر میں ہدف بنایا، جس سے پہلے اسرائیل نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس میدان پر حملہ کیا تھا۔ سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اجلاس کے بعد بتایا کہ سعودی برداشت کم ہو رہی ہے، ملک سفارتی راس...

بیلاروس نے 250 سیاسی قیدی رہا کیے، امریکا پابندیاں نرم کرے گا

تصویر
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے امریکا کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت 250 سیاسی قیدی رہا کرنے کا حکم دیا۔ یہ بظاہر ایک مرتبہ میں سب سے بڑی رہائی ہے اور امریکا نے دو سرکاری بینکوں، مالیاتی وزارت اور بڑے پوٹاش پروڈیوسرز پر سے پابندیاں ہٹانے کا عندیہ دیا ہے۔ رہائی کے باوجود ایک ہزار سے زائد افراد ابھی بھی قید میں ہیں، اور حزبِ اختلاف نے باقی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ جاری رکھا ہے۔ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے جمعرات کو 250 سیاسی قیدی رہا کرنے کا حکم دیا، جسے واشنگٹن کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے عوض پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس قدم کو اب تک ایک ہی بار میں ہونے والی سب سے بڑی رہائی بتایا گیا ہے۔ پس منظر رہائی کا اعلان ملک میں تعلقاتِ عامہ معمول پر لانے کی کوششوں کے تحت آیا ہے۔ امریکی خصوصی نمائندے جان کوئل کی منسک میں لوکاشینکو سے ملاقات کے بعد واشنگٹن نے دو بیلاروسی سرکاری بینکوں، مالیاتی وزارت اور بڑی پوٹاش پیدا کرنے والی کمپنیوں پر سے پابندیاں نرم کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ امریکی نمائندے نے توقع ظاہر...

یوکرین کے ڈرون تجربے کی پیشکش

تصویر
مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی ڈرون حملوں کے سامنے کئی ممالک کمزور ثابت ہوئے ہیں۔ چار سالہ جنگ میں یوکرین نے نسبتاً سستے اور آزمودہ انٹرسیپٹر ڈرونز اور عملی مہارت تیار کی ہے، جن کی مانگ بڑھ رہی ہے — صدر زیلنسکی نے 11 درخواستوں کا ذکر کیا اور کیئف نے بعض جگہ مدد فراہم کی۔ ماہرین کہتے ہیں ٹیکنالوجی جلد نقل ہو سکتی ہے، اس لیے برآمدی قواعد اور تربیت میں تیزی ضروری ہے۔ میدانِ جنگ نے دکھایا ہے کہ روایتی اور مہنگے میزائلوں سے ایرانی شیحد قسم کے بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں کا مؤثر جواب دینا مشکل ہے۔ یوکرین چار سال کے تجربے کی بنیاد پر نسبتاً کم خرچ، جنگی آزمودہ انٹرسیپٹر ڈرونز اور ڈرون دفاع کی عملی مہارت فراہم کرنے کی پیشکش کر رہا ہے۔ یوکرین کی پیشکش اور عالمی ردِعمل صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بتایا ہے کہ کیئف کو ایران کے ہمسایہ ممالک، یورپی ریاستوں اور امریکہ سے 11 درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور بعض معاملات میں واضح امداد بھی دی گئی ہے۔ یوکرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے بعض مقامات پر ماہرین اور انٹرسیپٹر ڈرونز تعینات کیے، جن میں ...