اشاعتیں

2025 میں یورپی نیٹو دفاعی اخراجات میں تقریباً 20 فیصد اضافہ

تصویر
نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک رٹے کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں یورپ اور کینیڈا کی دفاعی اخراجات حقیقی بنیادوں پر تقریباً 20 فیصد بڑھ کر 574 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ امریکی دفاعی خرچ تھوڑا کم ہوا مگر پھر بھی اتحاد کے مجموعی اخراجات کا بڑا حصہ رہا، اور تمام رکن ممالک نے سالانہ 2 فیصد جی ڈی پی ہدف پورا کیا۔ نیٹو کے جنرل سیکریٹری مارک رٹے نے براسلز میں جاری اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2025 میں یورپ اور کینیڈا نے دفاعی اخراجات میں حقیقی مدت کے اعتبار سے تقریباً 20 فیصد اضافہ کیا اور مجموعی طور پر 574 بلین ڈالر خرچ کیے۔ اہم اعداد و شمار رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی خرچ 2025 میں معمولی کمی کے ساتھ 838 بلین ڈالر رہا، مگر پھر بھی نیٹو کے کل خرچ کا سب سے بڑا حصہ برقرار رہا اور اس کا حصہ 2024 کے 64 فیصد سے کم ہو کر 59 فیصد رہ گیا۔ یورپ اور کینیڈا کی مجموعی مدّ میں اضافے کی شرح دوسری سال بھی زیادہ رہی۔ بعض ممالک نے محض 2.00–2.05 فیصد جی ڈی پی کے ساتھ ہدف پورا کیا، جبکہ پولینڈ، لتھوانیا، لٹویا، ایسٹونیا، ڈنمارک اور ناروے ...

ایران جنگ کے بعد بھارت میں سوشل میڈیا سنسرشپ میں اضافہ

تصویر
حالیہ ہفتوں میں بھارت میں سوشل میڈیا پوسٹس کی بڑے پیمانے پر حذف یا پابندیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو حکومت کی امریکہ-اسرائیل کے ایرانی حملوں پر خاموشی کی تنقید کرتی تھیں۔ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے 19 مارچ تک کم از کم 42 ایسے واقعات ریکارڈ کیے، جبکہ محققین کے مطابق فروری کے بعد سے مجموعی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ حکومتی کارروائیاں قومی سلامتی اور عوامی نظم کے جواز پر مبنی ہیں، مگر احکامات شفاف نہیں کیے جاتے اور ناقدین اسے اظہارِ رائے پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ حالیہ دو ہفتوں میں بھارت میں ایسی پوسٹس اور اکاؤنٹس کی ہٹانے کی لہر سامنے آئی ہے جو حکومت کی ایران پر ہونے والے امریکی-اسرائیلی حملوں پر خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتی تھیں۔ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے مطابق 11 مارچ کے آس پاس پابندیوں میں اضافہ شروع ہوا اور 19 مارچ تک کم از کم 42 واقعات دستاویز کیے گئے تھے۔ حذف کی گئی چیزوں میں سیاسی کارٹون، طنزیہ ویڈیوز، اپوزیشن کے بیانات اور بعض ریٹائرڈ افسران یا مخالف رہنماؤں کے اے آئی سے بنائے گئے مواد شامل ہیں۔ مثال کے ط...

چین نے جنوب مشرقی ایشیا کا سہارا بننے کی کوشش

تصویر
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری لڑائی نے تنگ راستہ ہرمز سے تیل و گیس کی ترسیل متاثر کر کے جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں میں ایندھن بحران پیدا کر دیا ہے۔ چین نے اس کشیدگی کو کم کرانے اور توانائی تعاون کی پیشکش کر کے خود کو خطے کا استحکام پسند شراکت دار ظاہر کیا ہے، مگر فوری حل میں پابندیاں اور برآمدی قدغنیں خدشات برقرار رکھتی ہیں۔ ہفتوں کی لڑائی سے ہرمز کی نہر کے ذریعے تیل و گیس کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور جنوب مشرقی ایشیائی حکومتیں صنعت، فضائی نقل و حمل اور گھریلو استعمال کے لیے ایندھن تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ اسی پس منظر میں بیجنگ نے خطے کے ساتھ توانائی تعاون اور کشیدگی کم کرنے کی پیشکش کر کے خود کو استحکام کا ضامن ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ توانائی کے فوری اثرات فلپائن نے ایک سال کے لیے قومی توانائی ہنگامی حالت کا اعلان کیا، سرکاری اوقات کار میں تبدیلیاں اور ٹرانسپورٹ ورکرز کو مالی امداد دی گئی جبکہ جیٹ ایندھن کی کمی سے جہازوں کے اڑانوں کو خطرہ لاحق ہے۔ ویتنام نے قیمت استحکام فنڈ استعمال کیا اور...

مذاکراتی رابطے کی کوشش: محمد قالیباف کون ہیں؟

تصویر
امریکی ذرائع کے مطابق مصر، پاکستان اور ترکی کی ثالثی سے ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف تک بات پہنچانے کی کوشش کی گئی، مگر تہران نے ان ملاقاتوں کی تردید کی اور قالیباف نے انہیں 'جعلی خبر' قرار دیا۔ سابق IRGC کمانڈر، طیارہ باز اور طویل سیاستدان قالیباف نے شہرِ تہران کے میئر، پولیس چیف اور پارلیمنٹ کی قیادت جیسے اہم عہدے سنبھالے۔ ان پر کرپشن کے الزامات، خاندان سے جڑے تنازعات اور مظاہروں کی دبانے میں کردار کے حوالے سے تنقید رہی ہے، جبکہ ان کی داخلی قوت کے باعث ان کے مستقبل کے کردار پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ امریکی ذرائع نے بتایا کہ مصر، پاکستان اور ترکی نے بیک وقت ثالثی کر کے ایران کے پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے رابطے کی کوشش کی تاکہ ممکنہ مذاکرات کے لیے بات چیت ہو سکے، تاہم تہران نے ان کوریسpondences کی تردید کی اور قالیباف نے انہیں 'جعلی خبر' قرار دیا۔ اسی دوران خبر رساں اداروں نے خلیج کی سلامتی سے متعلق عسکری تعیناتیوں کی اطلاعات بھی دی ہیں۔ سوانح اور سیاسی سفر قالیباف...

محمد باقر قالیباف کون ہیں؟

تصویر
امریکی ذرائع کے مطابق مصر، پاکستان اور ترکی کے ثالثی اقدامات کے بعد ایک فون کال کے ذریعے ایران کے پارلیمان اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بات کرنے کی کوشش کی گئی، مگر تہران نے مذاکرات کی تردید کی اور قالیباف نے اسے ''جعلی خبر'' قرار دیا۔ سابق IRGC کمانڈر اور طویل عرصے کے شہری رہنما قالیباف کو ایران میں وسیع اثر و رسوخ اور بدعنوانی کے الزامات کے باوجود اہم سیاسی قوت سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے بات چیت کی اطلاعات کے بعد متعدد ممالک نے وسطِ مغرب میں ثالثی کر کے ایران کے پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے رابطے کی کوشش کی، تاہم ایرانی قیادت نے مذاکرات کی تردید کی اور قالیباف نے خبروں کو مالی و تیل کی منڈیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ''جعلی خبریں'' کہا۔ پس منظر قالیباف 64 سال کے سابق IRGC کمانڈر اور پائلٹ ہیں جن کے پاس سیاسی جغرافیہ میں ڈاکٹریٹ ہے۔ وہ ایران و عراق کی جنگ میں لڑنے کے بعد Khatam al-Anbiya کے سربراہ بنے اور بعد ازاں 1997 میں IRGC ایئر فورس کا کمانڈر م...

آسٹریلیا نے ایران کے زائرین پر چھ ماہ کی عارضی پابندی لگا دی

تصویر
آسٹریلیا نے ایران سے آنے والے مخصوص زائرین کے داخلے پر چھ ماہ کے لیے عارضی پابندی عائد کر دی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث بعض عارضی ویزہ ہولڈر اپنے ویزے ختم ہونے پر ملک چھوڑنے کے قابل یا ممکن نہیں رہیں گے۔ بعض استثنائی صورتیں برقرار ہیں، اور یہ فیصلہ امیگریشن نظام کی سالمیت کو قائم رکھنے کے تناظر میں لیا گیا۔ آسٹریلیا نے 26 مارچ سے ایران کے ساتھ منسلک مخصوص زائرہ ویزوں کے حامل افراد کے داخلے کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث بعض عارضی ویزہ ہولڈرز اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے پر ملک چھوڑنے کے قابل یا ممکن نہیں رہ سکتے، اسی خطرے کے پیشِ نظر یہ تدبیر اختیار کی گئی ہے۔ ہوم افیئرز ڈپارٹمنٹ نے وضاحت کی ہے کہ پابندی اُن زائرہ ویزوں پر لاگو ہوتی ہے جو ایرانی پاسپورٹ کے ساتھ درخواست دینے والے افراد کے لیے جاری کیے گئے تھے اور جو اس وقت آسٹریلیا کے باہر ہیں۔ اس اقدام میں بعض استثنائی حالات شامل ہیں، مثلاً آسٹریلوی شہری سے شادی شدگان یا ایسے والدین جن کا نابا...

ایران ہرمز سے گزر کے لیے لاکھوں ڈالر وصول کر رہا ہے؟

تصویر
رپورٹس کے مطابق ایران نے ہرمز کی تنگ آبی گزرگاہ میں تقریباً تمام تیل و گیس ٹینکرز کے راستے محدود کر دیے ہیں اور ہر جہاز سے 'محفوظ گزر' کے عوض ایک کروڑوں ڈالر تک وصول کیے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ Lloyd's List کے مطابق کم از کم ایک ٹینکر کی ادائیگی کی خبر ملی ہے، جبکہ بین الاقوامی حلقوں میں یہ قدم سمندری قانون کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے اور بند جہازوں، بڑھتی ہوئی انشورنس لاگت اور بین الاقوامی مذاکرات پر اثرات واضح ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے تنگِ ہرمز میں تقریباً تمام تیل و گیس ٹینکرز کے معمولی گزر کو محدود کر رکھا ہے اور بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران ہر جہاز سے محفوظ گزر کے عوض دو ملین ڈالر تک وصول کر رہا ہے؛ Lloyd’s List نے کم از کم ایک ٹینکر کی ادائیگی کی اطلاع دی ہے۔ ایرانی عہدیداروں نے کچھ رپورٹس کی تردید کی ہے، مگر پارلیمانی رکن علاءالدین بروجردی نے اس اقدام کو 'نئی خودمختار نظم' کا حصہ قرار دیتے ہوئے جنگی اخراجات پورا کرنے کی دلیل پیش کی۔ کینیڈا کی یونیورسٹی آف کیلگری کے م...