اشاعتیں

اپریل, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کریمیہ میں روسی فوجی طیارہ کریش، کم از کم 29 ہلاک

تصویر
31 مارچ کو روسی الحاق شدہ کریمیہ میں ایک Antonov An-26 فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ پرواز کے دوران کریش ہوا۔ روسی خبر ایجنسیوں کے مطابق اس واقعے میں کم از کم 29 افراد ہلاک ہوئے۔ تفتیشی کمیٹی نے پرواز کی حفاظت کی خلاف ورزی کے شبے میں عدالتی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ دفاعی وزارت نے فنی خرابی کو سبب بتایا ہے۔ 31 مارچ کو کریمیہ کے باخچیسارائی ضلع کے قریب An-26 فوجی طیارہ پرواز کے دوران کریش ہوا، جس سے روسی ریاستی خبروں کے مطابق کم از کم 29 افراد جان سے گئے۔ یہ ابتدائی اور باضابطہ اطلاعات روسی خبر ایجنسیوں نے جاری کیں۔ حکام کے بیانات میں تضاد موجود ہے: TASS نے رپورٹ کیا کہ چھ عملے کے ارکان اور 23 مسافر ہلاک ہوئے، جب کہ تحقیقات کمیٹی نے بتایا کہ طیارے پر سات عملے کے ارکان اور 23 مسافر سوار تھے۔ تحقیقات کمیٹی نے واقعے کو پرواز کی حفاظت کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت فوجداری تفتیش کے دائرہ کار میں لے لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق طیارے نے کریمیا کے اوپر شیڈول شدہ فلائٹ کر رہی تھی اور مقامی وقت کے مطابق منگل کو شام تقریباً 6 بج...

ایران کے بعد: کیا سعودی عرب اور ترکی جوہری ہتھیار اپنائیں گے؟

تصویر
موجودہ جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جوہری خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے جوہری مقامات پر حملے اور امریکی حکمتِ عملی نے خطے میں دیگر ملکوں کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور ترکی میں جوہری 'لیٹنسی' یا طویل المدتی جوہری پروگرام کے امکانات ہیں، مگر تکنیکی، سیاسی اور وقتی رکاوٹیں بھی کافیہیں۔ علاقائی ڈائیلاگ کو روک تھام کا مؤثر ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ موجودہ جنگ نے مشرقِ وسطیٰمیں جوہری خطرے کو بڑھا دیا ہے: فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر کارروائیوں کے بعد دونوں ملکوں کے جوہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا، اور اس تنازع نے خطے کے دیگر فریقین کو جوہری اہلیت حاصل کرنے کے امکانات پر غور کرنے کے لیے اکسا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملہ اسی خوف کو روکنے کے لیے تھا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ انہی اقدامات سے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ایران پہلے ...