ایران کے بعد: کیا سعودی عرب اور ترکی جوہری ہتھیار اپنائیں گے؟

World | Deutsche Welle

موجودہ جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جوہری خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے جوہری مقامات پر حملے اور امریکی حکمتِ عملی نے خطے میں دیگر ملکوں کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور ترکی میں جوہری 'لیٹنسی' یا طویل المدتی جوہری پروگرام کے امکانات ہیں، مگر تکنیکی، سیاسی اور وقتی رکاوٹیں بھی کافیہیں۔ علاقائی ڈائیلاگ کو روک تھام کا مؤثر ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔

موجودہ جنگ نے مشرقِ وسطیٰمیں جوہری خطرے کو بڑھا دیا ہے: فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر کارروائیوں کے بعد دونوں ملکوں کے جوہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا، اور اس تنازع نے خطے کے دیگر فریقین کو جوہری اہلیت حاصل کرنے کے امکانات پر غور کرنے کے لیے اکسا دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملہ اسی خوف کو روکنے کے لیے تھا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ انہی اقدامات سے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ایران پہلے 'جوہری لیٹنسی' کی حالت میں تھا — یعنی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب لیکن مکمل نہ — اور اب کئی سیاستدان NPT سے نکلنے کا عندیہ دے رہے ہیں؛ 1968 کے اس معاہدے کے 191 رکن ہیں۔

ممکنہ جوہری سرائیت

سعودی عرب نے گزشتہ سال جوہری صلاحیت کی طرف پہلے اشارے کیے اور محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ اگر ایران بم بنا لے تو سعودی عرب کو بھی ایسی صلاحتی چاہیے۔ نومبر میں امریکی دورے کے بعد ریپورٹس کے مطابق ریڈیوم دآبادکاری اور یورینیم افزودگی کے لیے تعاون کے معاہدے کی راہ ہموار ہوئی، جس پر مبصرین نے نگرانی کے مؤثر طریقوں کے فقدان کی انتباہ کی۔ ماہرہں کے مطابق سعودیہ کو پاور یا ہتھیار بنانے میں 10 تا 20 سال لگ سکتے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے باراکہ پلانٹ کے ساتھ ضوابط اور افزودگی سے گریز کی شرط قبول کی تھی۔ مصر روس کے ساتھ ری ایکٹر تعمیر کر رہا ہے مگر مالی مشکلات اسے ہتھیاری پروگرام میں تبدیل کرنا مشکل بنا سکتی ہیں، جب کہ ترکی روس اور ممکنہ طور پر چین کے ساتھ توانائی تعاون بڑھا رہا ہے مگر نیٹو رکنیت اس کے لیے مختلف معنی رکھتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روس یا چین مکمل طور پر عدم پھیلاؤ نظام کو ختم کروانے میں دلچسپی نہیں رکھیں گے اور وہ براہِ راست ہتھیار سازی میں مدد دینے کا امکان کم سمجھتے ہیں، البتہ وہ تکنیکی سامان یا نرم شرائط فراہم کر سکتے ہیں جو تقسیم کو آسان بنائیں۔ عمومی سفارش یہی ہے کہ جنگ کے بعد خطی سلامتی پر مبنی علاقائی مذاکرات کو اولین قرار دیا جائے تاکہ ممالک کو جوہری دفاع کے راستے کی بجائے سیاسی اور سیکورٹی حل مل سکیں۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

کوہستان کرپشن سکینڈل