Skip to main content

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔

عافیہ صدیقی کی تصویر


امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔

نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔

عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ یکم اپریل 2003 کو لاپتہ ہوئیں۔ اس سلسلے میں محترمہ یوان ریڈلی (Yvonne Ridley) سے بھی سوالات ہونے چاہئیں۔

عافیہ صدیقی 2008 میں گرفتار ہوئیں، جب مشرف کی حکومت ختم ہو چکی تھی۔ اس بات کی تصدیق اُن کے ماموں شمس الدین، معروف عالم دین مفتی ابو لبابہ شاہ منصور، اور مفتی رفیع عثمانی نے کی ہے، جن سے وہ اس دوران رابطے میں رہیں۔ مبینہ طور پر، انہوں نے القاعدہ کے لیے حیاتیاتی ہتھیار بنانے کی کوشش بھی کی تھی۔

22 مئی 2009 کو "روزنامہ اُمت" میں اُن کے سابق شوہر ڈاکٹر امجد کا ایک تفصیلی اور چشم کشا انٹرویو شائع ہوا، جس میں اُنہوں نے دوبارہ کہا کہ عافیہ صدیقی نے اپنی روپوشی کا ڈرامہ خود رچایا۔ ڈاکٹر امجد کے مطابق، عافیہ ایک جنونی خاتون تھیں اور اُنہوں نے القاعدہ کے خالد شیخ گروپ سے تعلقات قائم کیے۔ وہ بلٹ پروف جیکٹس اور C4 دھماکہ خیز مواد کے مینولز تک خرید چکی تھیں، اور بعض امریکی ایجنسیوں نے اُن سے پوچھ گچھ بھی کی تھی۔

بعد ازاں، وہ پاکستان واپس آئیں اور ڈاکٹر امجد کو افغانستان میں جہاد پر چلنے کے لیے کہا۔ انکار پر طلاق کا مطالبہ کیا۔ مفتی رفیع عثمانی نے اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ نہ مانیں۔ طلاق کے بعد عافیہ نے بچوں کو باپ سے نہ ملنے دیا۔

2003 میں، عافیہ نے القاعدہ کے رہنما خالد شیخ محمد کے بھانجے عمار بلوچی سے دوسری شادی کر لی۔ اسی سال، جب خالد شیخ گرفتار ہوا تو اس کے قبضے سے ملنے والی دستاویزات میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر بھی موجود تھا۔ اُن کی بہن نے ایک عدالتی کارروائی میں اس شادی کی تصدیق کی۔ خالد شیخ کی گرفتاری کے بعد عافیہ روپوش ہو گئیں۔ اس دوران ڈاکٹر امجد بچوں سے ملاقات کے لیے قانونی کارروائی کر رہے تھے۔ عافیہ کی جانب سے یہ جواز دیا گیا کہ ایجنسیوں نے بچوں سمیت انہیں اغوا کر لیا ہے۔

یوں وہ نہ صرف ڈاکٹر امجد بلکہ اُن کے خاندان کے سوالات سے بھی بچ گئیں۔ اس دوران ڈاکٹر امجد نے دو گواہوں کو عدالت میں پیش کیا جنہوں نے اُنہیں بعد ازاں کراچی میں دیکھا تھا۔

عافیہ کے بارے میں سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ 2008 میں وہ اپنے ماموں شمس الدین واجد کے گھر نمودار ہوئیں۔ اخبار میں شائع شمس الدین صاحب کے بیان کے مطابق، عافیہ تین دن اُن کے گھر رہیں۔ اُنہوں نے محسوس کیا کہ عافیہ کی ناک پر سرجری ہوئی ہے، ممکن ہے وہ اپنی شناخت چھپانا چاہتی ہوں۔

اس کے بعد عافیہ نے اپنے ماموں سے ضد کی کہ وہ اُنہیں طالبان کے پاس افغانستان بھیج دیں کیونکہ وہاں وہ خود کو محفوظ سمجھتی تھیں۔ انکار پر، تیسرے دن وہ اچانک غائب ہو گئیں۔ غالب گمان یہی ہے کہ وہ خود افغانستان چلی گئیں، جہاں افغان فورسز نے انہیں گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا۔ یہی مؤقف افغان حکومت اور امریکہ دونوں کا ہے۔

مزید تفصیلات اس مضمون کو طویل کر سکتی ہیں، جیسے کہ وہ کس طرح نام اور شناخت بدل کر زندگی گزارتی رہیں۔ مگر افسوس اُن لوگوں پر ہے جو ان تمام حقائق کے باوجود پرویز مشرف پر "قوم کی بیٹی بیچنے" کا الزام لگاتے ہیں، حالانکہ اُن کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

درحقیقت، عافیہ اُن بے شمار افراد میں سے ایک تھیں جو جذبات میں آ کر غلط راہوں پر چل نکلتے ہیں اور ایک حد کے بعد صحیح و غلط کا فرق بھول جاتے ہیں۔ وہ پاکستان سے اسی طرح کی نفرت کرنے لگی تھیں جیسی تحریک طالبان پاکستان یا القاعدہ کے شدت پسند کرتے ہیں۔ کراچی میں نیول بیس پر القاعدہ کے جس سیل نے حملہ کیا تھا یہ اسکا حصہ تھیں۔

آج وہ اپنی غلطیوں کی سزا بھگت رہی ہے۔ ہم بس یہی دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی مشکلات آسان فرمائے۔

Comments

Popular posts from this blog

Exiled Russians Unable to Return Home Struggle to Mourn Loved Ones

Thousands who left Russia after the 2022 invasion say travel bans, cost and security fears have stopped them from attending funerals. Psychologists warn the act of leaving can start a hidden grief that makes bereavement harder, and suggest practical ways to find closure. Many Russians who fled the country after the full-scale invasion of Ukraine are facing a second loss: they cannot return to say goodbye when relatives die. Between an estimated 650,000 and 1 million people left Russia after early 2022, and halted flights, steep travel costs and fears of detention often make trips home impossible. Those barriers hit people fast. One man using a pseudonym, Pyotr Trofimov, learned his father had died just three weeks after arriving in Germany. Direct flights were no longer available and a round trip would have cost thousands of euros. He turned to a psychologist to cope with the shock and says grief has been s...

Army Says It Rescued 31 Hostages After Easter Church Attack in Kaduna

Nigeria's military says troops freed 31 worshippers seized during an attack on churches in Ariko village, Kaduna state. Local leaders report multiple deaths and missing people as authorities blame armed bandits for rising violence in the region. Nigeria's army said it rescued 31 people who were taken hostage during an attack on churches in Ariko village, Kaduna state, on Sunday. In a statement the military said troops engaged the attackers in a firefight and forced them to abandon the hostages. Local media and church leaders said a Catholic and an evangelical church were targeted. Caleb Maaji, chairman of the Christian Association of Nigeria in Kaduna, said seven people were killed and others taken. The military, however, said five bodies were found at the scene. The attack occurred about 100 kilometres north of Abuja and came despite a police chief’s order for a “massive security deployment” at pla...

Narva 'People's Republic' Rumors Dismissed by Locals and Estonian Officials

Calls on social media for a breakaway 'People's Republic of Narva' have circulated, but residents, local journalists and Estonian intelligence say the stories are provocative or plainly false. Online calls for Narva to secede from Estonia and form a so-called "People's Republic of Narva" have spread on social platforms and messaging apps. Estonian intelligence has labelled the posts provocative, while the city's mayor and most residents dismiss them as nonsense. Narva sits on Estonia’s eastern border opposite the Russian town of Ivangorod. Around 52,000 people live there and the city is predominantly Russian-speaking; roughly a third of residents also hold Russian passports. The border crossing is open on foot during the day, though Russian authorities have barred vehicle traffic while a bridge is repaired. Despite its linguistic and family ties to Russia, Narva also has strong...