اسرائیل کا شام پر حملہ

 اسرائیل نے شام کے دارلخلافہ دمشق پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں اس نے وزارت دفاع اور صدارتی محل کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کا دعوی ہے کہ وہ یہ حملے اقلیتی فرقے دروز کی حفاظت کے لیے کر رہا ہے۔ 


کل ایک دن میں اسرائیل نے مجموعی طور پر شام پر 160 حملے کیے ہیں جس میں شام کا وزیر دفاع بھی قتل کر دیا۔ دمشق کے بعد اسرائیل نے السویدا اور درعا میں بھی حملے کیے۔ ان حملوں میں متعدد شامی شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ ہے کہ لڑائی میں مجموعی طور پر 300 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔  شامی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

اسرائیل جس دروز اقلیت کی حمایت میں شام پر حملے کر رہا ہے، ان کی تعداد 7 سے 10 لاکھ کے درمیان ہے۔ دروز مذہب اسلام، عیسائیت اور یہودیت کا امتزاج ہے۔ ان کی زیادہ تر آبادی گولان ہائٹس کے آس پاس ہے، جہاں اسرائیل کا قبضہ ہے۔ اسرائیل اس اقلیت کو اپنے اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ یہ اقلیت شام سے الگ ہو کر اپنی خودمختار ریاست قائم کر لے، تاکہ شام مزید کمزور ہو اور اسرائیل کا اثرورسوخ مزید بڑھے۔

لیکن اسرائیلی حملوں کی اصل وجہ کچھ اور ہے۔ دراصل اسرائیل چاہتا تھا کہ شامی صدر احمد الشرع 'ابراہیم اکارڈ' کا حصہ بن جائے اور اسرائیل کو تسلیم کر لے۔ لیکن احمد الشرع نے شرط رکھ دی کہ پہلے اسرائیل گولان کی پہاڑیاں خالی کرے۔ جس کے بعد اسرائیل نے دروز کی حفاظت کا بہانہ بنا کر شام پر حملے شروع کر دئیے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ شام کا موجودہ حکمران احمد الشرع وہی ہے جس کی کچھ دن پہلے ٹرمپ کے ساتھ تصویر آئی تھی۔ جس کے بعد ٹرمپ سے شام سے پابندیاں ہٹائیں۔ سعودی عرب نے بھی اسکی حمایت کی تھی۔ 

نیتھن یاہو کے شام پر حملے کا ایک پہلو اور بھی ہے۔ نیتھن یاہو کی حکومت صرف ایک ووٹ پر کھڑی رہ گئی ہے۔ اس پر تحائف بیچنے کا الزام ہے۔ اسکو خدشہ ہے کہ حکومت گری تو گرفتار ہوگا۔ وہ جنگیں لڑ کر خود کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ میں شکست کے بعد اگر وہ شام کو تقسیم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو شائد اس پر اسرائیل کے اندر سے دباؤ ختم ہوجائے۔ 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

کوہستان کرپشن سکینڈل