دلائی لامہ پر چین اور انڈیا کی جنگ کا امکان

چین دو علاقوں پر ہمیشہ سے دعوے دار ہے: ایک تائیوان اور دوسرا تبت۔ گو کہ تبت پر چین کا کنٹرول ہے، لیکن وہاں کے دلائی لامہ (روحانی پیشوا) چینی عملداری کو تسلیم نہیں کرتے۔ تاہم، اس وقت دلائی لامہ کی حالت زیادہ اچھی نہیں، لہٰذا چین نے اپنی تمام امیدیں دلائی لامہ کے جانشین سے باندھ رکھی ہیں کہ وہ چین کی مرضی کا ہوگا اور تبت کو چین میں باقاعدہ طور پر ضم کر دے گا۔

دلائی لامہ پر انڈیا اور چین میں جنگ کا امکان


لیکن دلائی لامہ کے معاملے پر انڈیا چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے اور وہ کوشش کر رہا ہے کہ دلائی لامہ علیحدگی پسندوں کی مرضی کا آئے۔ وجہ یہ ہے کہ چین انڈیا کے اروناچل پردیش کو بھی جنوبی تبت کہتا ہے اور انڈیا کو اندیشہ ہے کہ ایک بار تبت چین میں ضم ہو گیا تو وہ اروناچل پردیش بھی زبردستی حاصل کر لے گا۔ ابھی چند دن پہلے چین نے اروناچل پردیش کے چینی نام بھی رکھ لیے ہیں۔ اس کے دریاؤں پر بند بھی باندھ رہا ہے۔ چین کو اروناچل پردیش سے دور رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو تبت میں ہی الجھائے رکھا جائے۔

لیکن چین نے دلائی لامہ کے معاملے پر انڈیا کو سخت وارننگ دی ہے اور چینی عزائم سے لگ رہا ہے کہ اگر انڈیا نہ رکا تو وہ اس معاملے میں انڈیا پر جنگ بھی مسلط کر سکتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد انڈین حکومت اور فوج کا مورال بہت ڈاؤن ہے اور چین کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا وہ بلا ہچکچاہٹ انڈیا پر حملہ کر دے گا اور چین یہ حملہ اکیلا نہیں کرے گا۔ پاکستان کسی صورت یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔

لہٰذا دلائی لامہ کی جانشینی کا معاملہ انڈیا اور چین کے درمیان سنگین صورت اختیار کر رہا ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

کوہستان کرپشن سکینڈل