تہران: جنگ کے سائے تلے روزمرہ زندگی

خلاصہ: تہران کے شہری فضائی حملوں اور سخت سکیورٹی کے درمیان غیر یقینی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں، لوگ گھر میں رہ کر اگلے دھماکے کے انتظار میں بے چین ہیں۔ سرکاری کنٹرول اور پروپیگینڈے کے درمیان آزاد صحافی حقائق جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر انہیں گرفتاریاں اور تشدد کا خطرہ لاحق ہے۔

تہران میں رہنے والے لوگ اکثر فضا میں جنگی طیاروں اور ڈرونز کی آواز سنتے ہیں؛ کچھ راتیں بس ٹریفک کی مدھم گونج تک محدود رہتی ہیں لیکن اچانک دھماکوں اور آگ کی روشنیاں بھی نظر آتی ہیں۔ بی بی سی کو موصولہ فوٹیج اور انٹرویوز میں دکھایا گیا ہے کہ شہریوں کے اعصاب متاثر ہیں اور وہ ہر لمحے کسی واقعے کی توقع میں رہتے ہیں۔

ایک کاروباری خاتون باران (فرضی نام، تیس کے عشرے) گھر سے نکلنے سے گھبراتی ہیں اور دوستوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خاموشی بھی کبھی کبھی خوفناک محسوس ہوتی ہے اور وہ بس زندہ رہنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے آگے کیا ہوگا۔

اس سال جنوری میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور ریاستی کارروائیوں کے بعد ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس نے کئی نوجوانوں کی امیدوں کو زک پہنچائی اور بہت سے لوگوں نے اپنے پیارے کھو دیے۔

شہر میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور حکومت نواز گروپ نظر آتے ہیں؛ رات کے وقت سرکاری حامی گاڑیاں جھنڈے ساتھ گھومتی ہیں اور سرکاری نشریات ہی احتجاجوں اور جنازوں کی کوریج دکھاتی ہیں۔ سرکاری بیانیے میں امریکہ اور اسرائیل کی مذمت بارہا کی جاتی ہے، جبکہ آزاد صحافی حقائق پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتاری اور تشدد کے خطرات سے دوچار ہیں۔

علی (چالیس کے عشرے) نے امید کی تھی کہ ملک میں تبدیلی ممکن ہو گی، مگر اب وہ سڑکوں پر چیک پوسٹس اور مسلح افراد دیکھتے ہیں اور تناؤ میں کمی کے لیے ادویات لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں مگر ایک ہی وقت میں ملک اور اپنی حفاظت کو لے کر ڈر بھی محسوس کرتے ہیں۔

صورتحال کا خلاصہ

شہری روزمرہ زندگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر جنگ اور سکیورٹی کے اثرات ان کے جذبات اور نفسیاتی حالت پر دیرپا نقوش چھوڑ رہے ہیں۔ اضافی رپورٹنگ: ایلیس ڈویرڈ۔


ماخذ: BBC News اردو

یہ خبر دستیاب معلومات کی بنیاد پر اردو میں دوبارہ مرتب کی گئی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

کوہستان کرپشن سکینڈل