روسی ٹینکر Anatoly Kolodkin 730,000 بیرل خام تیل لے کر ماتانزاس بندرگاہ پہنچ گیا — یہ امریکہ کی سخت پابندیوں کے نفاذ کے بعد کیوبا کو پہنچنے والی پہلی خام تیل کی کھیپ مانی جا رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اجازت کو ’کیس بہ کیـس‘ قرار دیا جبکہ کیوبا توانائی کی قلت، خوراک کی کمی اور بِلک آؤٹس کے تناظر میں اس کھیپ کو عارضی ریلیف قرار دے رہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس سے تقریباً 180,000 بیرل ڈیزل حاصل ہو سکتا ہے، جو نو سے دس دن کی مانگ پوری کر سکے گا۔
روسی تیل بردار جہاز Anatoly Kolodkin نے منگل کی صبح کیوبا کے ماتانزاس بندرگاہ میں لنگر انداز کیا، جہاز پر لگ بھگ 730,000 بیرل خام تیل تھا۔ یہ وہ پہلی خام تیل کی کھیپ ہے جو امریکا کی پابندیوں کی شدت کے بعد کیوبا پہنچی ہے۔
جہاز پر عائد امریکی، یورپی یونین اور برطانوی پابندیوں کے باوجود واشنگٹن نے اس کی رسائی کی اجازت دی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولائن لیوٹ نے کہا کہ اجازتیں ’کیس بہ کیس‘ بنیادوں پر دی جاتی ہیں، خاص طور پر انسانی نوعیت کے معاملات میں، اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ پابندیوں کی مجموعی پالیسی بدل گئی ہے۔
مقامی ردِعمل اور اثرات
کھیپ کی آمد ایسے وقت ہوئی جب کیوبا ایندھن اور خوراک کی شدید کمی اور بار بار بجلی کی بندشوں سے دوچار ہے۔ کیوبا کے وزیر توانائی و کان کنی ونسینٹے ڈی لا او لیوی نے روس کی امداد پر شکریہ ادا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خام تیل سے تقریباً 180,000 بیرل ڈیزل حاصل ہو سکتا ہے جو ملک کی روزانہ طلب کو نو سے دس دن تک پورا کرنے کے برابر ہوگا۔
کیوبا کے ڈپٹی خارجہ وزیر کارلوس فرنینڈیز دے کوسیو نے اس آمد کو ملک پر عائد ”محاصرہ“ کی علامت قرار دیتے ہوئے اسے عوام کے لیے بڑی اہمیت کی حامل قرار دیا۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
Comments
Post a Comment