ایران–امریکہ–اسرائیل تنازع اور ابھرتا نیا عالمی توازن
خلاصہ: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تصادم سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ روایتی بین الاقوامی ضوابط اور اداروں کا اثر کم ہو رہا ہے اور فیصلے زیادہ تر فوجی و سکیورٹی حسابات سے متاثر نظر آتے ہیں۔ اس کشمکش نے خطے اور عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کیے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز میں رکاوٹ اور تیل و گیس کی منڈیوں میں اضطراب شامل ہیں۔
عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے قواعد اور بین الاقوامی اداروں کے تحت طاقت کے استعمال کو جواز دینے کا رجحان رہا ہے، مگر حالیہ ایران–امریکہ–اسرائیل تنازع میں وہ روایتی فریم ورک کم مؤثر دکھائی دیتا ہے اور فریق زیادہ تر سکیورٹی اور عسکری حساب سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
فریقوں کا طرز عمل
ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے سخت پابندیوں کے باوجود اپنا تیل برآمد کرنے اور علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے طریقے وضع کر چکا ہے۔ ماضی میں تہران عام طور پر ایسے ردعمل دیتا آیا ہے جو کشیدگی کو مکمل علاقائی جنگ میں نہ لے جائے، اور بعض اوقات کارروائیوں سے پہلے نان اَفیشل انتباہات بھی جاری کیے گئے۔
اسرائیل کی فوجی حکمتِ عملی روایتی طور پر تیز اور فیصلہ کن کارروائیوں پر مبنی رہی ہے، اور اس کے حالیہ اقدامات بین الاقوامی عدالتی جانچ کا سامنا بھی کر رہے ہیں، جب کہ اسے امریکہ کی مضبوط حمایت حاصل ہے۔
امریکہ نے طویل عرصے تک بعدِ جنگِ عظیم کا عالمی نظام ترتیب دینے میں مرکزی کردار ادا کیا، مگر سن 2003 کا عراق حملہ اسی ڈھانچے کو کھلے انداز میں نظرانداز کرنے کی مثال تھا۔ موجودہ دور میں واشنگٹن نے دفاعی، تجارتی اور مالی ذرائع کو اپنے مقاصد کے لیے جارحانہ طور پر استعمال کیا ہے؛ اسی سلسلے میں ایک بیان میں امریکی صدر نے ایرانی جزیرہ خارگ کے خلاف دوبارہ حملوں کا اشارہ بھی دیا۔
عالمی اثرات
حالیہ تنازع میں ایران کے جوابی حملوں میں سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد خلیجی علاقوں میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نے عالمی تیل و گیس کی فراہمی پر دباؤ ڈالا۔ اس کے دور رس اثرات میں روس کو توانائی کی قیمتوں سے فائدہ پہنچنے کے امکانات، یورپ کی محدود رسائی اور چین کا نزدیک سے صورتحال دیکھنا شامل ہے۔
اگر یہ طرزِ عمل جاری رہتا ہے تو وہ بین الاقوامی ضوابط کی کمزوری اور ممالک کے باہمی معاملات میں طاقت اور قومی صلاحیتوں پر زیادہ انحصار کا حامل نیا ماحول جنم دے سکتا ہے۔
ماخذ: BBC News اردو
یہ خبر دستیاب معلومات کی بنیاد پر اردو میں دوبارہ مرتب کی گئی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں