پلیٹاؤ ریاست نے جوس نورٹھ کے انگوان رُکوبا علاقے میں رات کے وقت ہونے والے حملے کے بعد دو روزہ کرفیو نافذ کر دیا۔ ریاستی حکام نے جانی نقصان کی تصدیق محدود رکھی، جب کہ ریٹرز اور اے ایف پی نے مقامی نوجوان نمائندوں کے حوالے سے کم از کم 30 ہلاکتوں کی اطلاعات دیں۔ گورنر نے واقعے کی مذمت کی، تحقیقات جاری ہیں اور یونیورسٹی نے امتحانات ملتوی کر دیے۔
پلیٹاؤ ریاست نے جوس نورٹھ لوکل گورنمنٹ ایریا میں انگوان رُکوبا کے قریب ایک رات کے حملے کے بعد دو روزہ کرفیو لگا دیا ہے، جو منگل کے اختتام تک برقرار رہے گا۔ ریاستی انتظامیہ نے واقعے کو سنگین قرار دیا اور ہلاکتوں و زخمیوں کی خبر سامنے آنے کے بعد فوری اقدامات کا اعلان کیا۔
مقامی رہائشیوں اور نیوز ایجنسیوں کے مطابق حملہ آور گاری یا وائے کمیونٹی میں پہنچے اور جنگلاتی فائرنگ کی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ریٹرز اور اے ایف پی نے مقامی نوجوان رہنماؤں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے، اگرچہ مقامی حکام نے حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی۔ واقعے کے بعد بعض مقامات پر ردِ عمل میں ہجوم کی جانب حملے بھی رپورٹ ہوئے اور یونیورسٹی آف جوس نے دو روز کے لیے امتحانات ملتوی کر دیے۔
گورنر کیلیب منتفوانگ نے واقعے کی مذمت کی، متاثرین کے گھرانوں سے ملاقات کی اور ذمہ داران کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا۔ ریاستی حکومت نے تفتیش جاری بتائی ہے اور عوام سے تحمل اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کی اپیل کی گئی ہے؛ تاحال حملہ آوروں کی شناخت سامنے نہیں آئی۔
پس منظر
پلیٹاؤ ریاست میں مدت دراز سے چرواہوں اور کاشتکاروں کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے، جس میں مذہبی اختلافات کے ساتھ ساتھ زمین، چرائی کے وسائل اور آب و ہوا کی تبدیلی کے مسائل بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی روز شمالی ریاست کڈونا کے ایک قبل از شادی اجتماع پر مبینہ حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہونے کی رپورٹ بھی سامنے آئی، جو ملک میں وسیع تر سکیورٹی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
Comments
Post a Comment