زیمبابوے کی پارلیمنٹ نے حکمران جماعت ZANU‑PF کے مسودہ آئینی ترمیمی بل پر ملک گیر عوامی سماعتیں شروع کر دی ہیں۔ مجوزہ اصلاحات میں صدارتی اور پارلیمانی مدت پانچ سے سات سال تک بڑھانا، صدر کے انتخاب کے طریقہ کار میں تبدیلی اور انتخابی اداروں کے اختیارات کا 일부 ریگسٹرار‑جنرل کو واپس کرنا شامل ہے۔ حامی خرچ میں بچت کا حوالہ دیتے ہیں جبکہ ناقدین مطلق پارٹی تسلط اور جمہوری احتساب میں کمزوری کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں۔ سماعتیں 30 مارچ سے 2 اپریل تک جاری رہیں گی اور بل پارلیمانی عمل سے گزرنے کا امکان ہے۔
پارلیمنٹ نے حکمران ZANU‑PF کی جانب سے پیش کیے گئے آئینی ترمیمی بل پر ملک گیر عوامی سماعتیں شروع کر دی ہیں جن کے مرکزی نکات صدارتی اور پارلیمانی مدت میں توسیع اور صدر کے انتخاب کے طریقہ کار میں تبدیلی ہیں، جس پر عوامی رائے منقسم ہے۔
بل میں موجود کلیدی تجاویز کے مطابق مدتِ ملازمت کو پانچ سال سے سات سال تک بڑھایا جا سکتا ہے، جس سے اگلے انتخابات 2028 کے بجائے 2030 میں منعقد ہونے کا امکان پیدا ہو گا اور صدر ایمرسن منانگاگوا کی مدت میں توسیع ممکن بن سکتی ہے۔ مسودے میں زیمبابوے الیکشن کمیشن کے بعض اختیارات ریجسٹرار‑جنرل کو دینے کی بھی تجویز ہے۔ حامیوں نے اصلاحات کے بجٹ فوائد بتائے؛ ایک طبی ڈاکٹر نے چند تبدیلیوں سے سالانہ کروڑوں ڈالر بچنے کے دعوے کیے۔
تنقید اور حقوق
مخالفین کا اصرار ہے کہ بل ایک جماعتی تسلط کو مضبوط کر سکتا ہے، خاص طور پر جب صدر کو براہِ راست عوامی ووٹ کی بجائے پارلیمان کے ذریعے منتخب کرنے کی تجویز موجود ہے۔ اپوزیشن اور سول سوسائٹی نے چار روزہ سماعتی شیڈول کو محدود قرار دیا اور بعض علاقائی اجتماعات میں شرکاء مقام چھوڑ رہے ہیں۔ اسی دوران ناقدین کے مبینہ گرفتار یا نقصان پہنچنے کی اطلاعات اور عالمی ادارہ امنسٹی انٹرنیشنل کی تشویش نے عمل کی شفافیت پر سوال اٹھا دیے ہیں؛ امنسٹی نے اظہار رائے اور امن پسند اجتماع کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
عوامی سماعتیں 2 اپریل کو ختم ہو جائیں گی، اس کے بعد پارلیمانی کمیٹیاں رائے شماری مرتب کریں گی اور بل پر بحث کے بعد قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا—جہاں حکمران جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے، جس سے بل کے منظور ہونے کے امکانات نمایاں نظر آتے ہیں۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
Comments
Post a Comment