آسٹریلیا نے ایران کے زائرین پر چھ ماہ کی عارضی پابندی لگا دی
آسٹریلیا نے ایران سے آنے والے مخصوص زائرین کے داخلے پر چھ ماہ کے لیے عارضی پابندی عائد کر دی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث بعض عارضی ویزہ ہولڈر اپنے ویزے ختم ہونے پر ملک چھوڑنے کے قابل یا ممکن نہیں رہیں گے۔ بعض استثنائی صورتیں برقرار ہیں، اور یہ فیصلہ امیگریشن نظام کی سالمیت کو قائم رکھنے کے تناظر میں لیا گیا۔
آسٹریلیا نے 26 مارچ سے ایران کے ساتھ منسلک مخصوص زائرہ ویزوں کے حامل افراد کے داخلے کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث بعض عارضی ویزہ ہولڈرز اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے پر ملک چھوڑنے کے قابل یا ممکن نہیں رہ سکتے، اسی خطرے کے پیشِ نظر یہ تدبیر اختیار کی گئی ہے۔
ہوم افیئرز ڈپارٹمنٹ نے وضاحت کی ہے کہ پابندی اُن زائرہ ویزوں پر لاگو ہوتی ہے جو ایرانی پاسپورٹ کے ساتھ درخواست دینے والے افراد کے لیے جاری کیے گئے تھے اور جو اس وقت آسٹریلیا کے باہر ہیں۔ اس اقدام میں بعض استثنائی حالات شامل ہیں، مثلاً آسٹریلوی شہری سے شادی شدگان یا ایسے والدین جن کا نابالغ بچہ آسٹریلیا میں مقیم ہو۔
جواز اور ردِعمل
وزیر برائے ہوم افیئرز ٹونی برک نے کہا کہ مستقل قیام کے فیصلے حکومت کی سنجیدہ ذمہ داری ہونا چاہئیں، نہ کہ غیر ارادی نتیجہ۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم امیگریشن نظام کی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہے۔ دوسری طرف آسائلم سییکر ریسورس سینٹر نے اس فیصلہ کو دل سوز نہ کہتے ہوئے سخت تنقید کی اور کہا کہ اس سے ایرانی کمیونٹی کو مزید تکلیف ہوگی، جبکہ سیاستدانوں نے بھی درخواست کے مواقع کی محدودیت پر سوال اٹھائے ہیں۔
پس منظر میں آسٹریلیا میں تقریباً 86,000 افراد ایسے ہیں جو ایران میں پیدا ہوئے تھے اور بڑی آبادی سڈنی اور میلبورن میں آباد ہے۔ اسی ماہ آسٹریلیا نے ایشین کپ کے دوران ایران کی خواتین فٹ بال ٹیم کے سات ارکان کو پناہ دی تھی، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات زیرِ بحث رہے؛ ان میں سے پانچ نے بعد میں اپنے فیصلے واپس لیے، جس سے خاندانوں پر دباؤ کے خدشات سامنے آئے تھے۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں