حوثی احتیاط: ایران جنگ میں فی الحال مداخلت نہیں

World | Deutsche Welle

حوثی عسکریت پسند گروپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں فوری فوجی مداخلت سے گریز کیا ہوا ہے، حالانکہ اس نے تہران کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رویہ مقامی مفادات، عسکری کمزوری، سعودی مذاکرات اور امریکی-اسرائیلی ردِعمل کے خوف کی وجہ سے ہے۔ البتہ لاحق امکان موجود ہے کہ مستقبل میں ریڈ سی میں بحری حملوں کے ذریعے تنازعہ پھیلایا جائے، جس کے علاقائی اور عالمی توانائی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ حوثی رہنماؤں نے ایران کی حمایت کا اظہار کیا اور ممکنہ اقدامات کی دھمکی دی ہے، فی الوقت وہ ایران میں جاری جنگ میں براہِ راست دخل اندازی نہیں کر رہے۔ ماہرین اس احتیاط کو گروپ کے موجودہ طرزِ عمل کا مرکزی پیغام قرار دے رہے ہیں۔

تحلیل کاروں کا کہنا ہے کہ فیصلہ بنیادی طور پر مقامی اور عملی مفادات کی بنیاد پر ہے: حوثیوں کو خطے میں اپنی پوزیشن، شمالی یمن میں داخلی کشیدگی، سعودی عرب کے ساتھ جاری مذاکرات اور امریکی فضائی مداخلت و اسرائیلی کارروائیوں سے پہنچنے والے نقصان کا خیال ہے۔ تجزیہ کار لوکا نیوولا اور فلپ ڈینسٹ بیئر کے مطابق یہ عوامل اور گروپ کی نسبتاً خود مختاری انہیں ہر تنازعے میں فوراً کودنے سے روکتی ہے۔

خطرات اور ممکنہ اثرات

اسی کے باوجود ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ حوثیوں کی عسکری صلاحیت مکمل ختم نہیں ہوئی اور وہ غیر متوقع انداز اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر مداخلت ہوئی تو ریڈ سی میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے سب سے ممکنہ طریقہ ہوں گے، جس سے خطے کی توانائی برآمدات اور عالمی توانائی مارکیٹس پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے موجودہ پرہیز وقتی طور پر تناؤ کم کر رہا ہے مگر مستقبل میں پھیلاؤ کا خطرہ برقرار ہے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

کوہستان کرپشن سکینڈل