جمعرات کی شام تہران میں ہونے والی شدید فضائی کارروائیوں اور ملک گیر انٹرنیٹ بندش نے شہریوں میں خوف اور تنہائی بڑھا دی ہے۔ اسرائیل نے تہران کے اہم اہداف پر وسیع حملوں کا دعویٰ کیا جبکہ ایران نے اسی طرح اسرائیل اور خلیجی ملکوں میں امریکی اڈوں پر راکٹ و ڈرون حملوں کا بتایا۔ بلیک آؤٹ کی وجہ سے لوگ بیرونی ذرائعِ ابلاغ اور وی پی این پر منحصر ہیں، مگر سٹار لنک پر پابندی، سسٹمز کی ضبطگی اور گرفتاریوں نے معلومات تک رسائی مہنگی اور محدود کر دی ہے۔
تہران میں جمعرات کی شام ہونے والی شدید فضائی کارروائیوں کے ساتھ ہی ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش نے عام شہریوں میں خوف اور علیحدگی کا احساس بڑھا دیا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے تعلقہ کی سکیورٹی تشویش اور اطلاعات تک محدود رسائی کا تاثر پیدا ہوا ہے۔
حملے اور بین الاقوامی تناؤ
اسرائیلی فوج نے تہران کے ’دل‘ میں بڑے حملوں کی تکمیل کا دعویٰ کیا اور رژیم کی بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ قرار دیا۔ اس بیچ امریکا نے بحیرہ ہرمز پر پابندی نہ اٹھانے پر ایران کے توانائی مراکز پر حملے کی دھمکی مؤخر رکھی، سینکڑوں فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجے گئے ہیں اور زمینی مداخلت کو خارج قرار نہیں دیا گیا۔ ایران نے بھی اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں پر میزائل و ڈرون حملوں کا الزام عائد کیا۔
میڈیا، سیکیورٹی اور انفارمیشن بلیک آؤٹ
عوام کا سرکاری نشریاتی ادارے IRIB پر اعتماد کم ہے؛ ایک سروے کے مطابق جون 2025 سے قبل صرف 12.5 فیصد لوگ اسے خبروں کا ذریعہ مانتے تھے، جب کہ 2017 میں یہ شرح 51 فیصد تھی۔ مارچ 2025 میں بجٹ میں اضافہ کے باوجود ادارے نے اعتماد بحال نہیں کیا۔
انٹرنیٹ کی بندش کے باعث لوگ بیرونی فارسی ذرائع اور سوشل میڈیا سے منسلک رہنے کے لیے وی پی این اور سیٹلائٹ خدمات پر انحصار کر رہے ہیں، مگر سٹار لنک پر پابندی، مہنگے کنکشن اور وزارتِ انٹیلی جنس کی طرف سے سینکڑوں سسٹمز کی ضبطگی اور گرفتاریوں نے رسائی محدود اور خطرناک بنا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ ڈیوائسز کے سگنل کو ٹریک کر کے اُن کی لوکیشن تک پہنچا جا سکتا ہے، جس نے لوگوں کی پریشانی اور رشتہ داروں سے رابطے کی بندش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
Comments
Post a Comment