مذاکراتی رابطے کی کوشش: محمد قالیباف کون ہیں؟

World | Deutsche Welle

امریکی ذرائع کے مطابق مصر، پاکستان اور ترکی کی ثالثی سے ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف تک بات پہنچانے کی کوشش کی گئی، مگر تہران نے ان ملاقاتوں کی تردید کی اور قالیباف نے انہیں 'جعلی خبر' قرار دیا۔ سابق IRGC کمانڈر، طیارہ باز اور طویل سیاستدان قالیباف نے شہرِ تہران کے میئر، پولیس چیف اور پارلیمنٹ کی قیادت جیسے اہم عہدے سنبھالے۔ ان پر کرپشن کے الزامات، خاندان سے جڑے تنازعات اور مظاہروں کی دبانے میں کردار کے حوالے سے تنقید رہی ہے، جبکہ ان کی داخلی قوت کے باعث ان کے مستقبل کے کردار پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

امریکی ذرائع نے بتایا کہ مصر، پاکستان اور ترکی نے بیک وقت ثالثی کر کے ایران کے پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے رابطے کی کوشش کی تاکہ ممکنہ مذاکرات کے لیے بات چیت ہو سکے، تاہم تہران نے ان کوریسpondences کی تردید کی اور قالیباف نے انہیں 'جعلی خبر' قرار دیا۔ اسی دوران خبر رساں اداروں نے خلیج کی سلامتی سے متعلق عسکری تعیناتیوں کی اطلاعات بھی دی ہیں۔

سوانح اور سیاسی سفر

قالیباف 64 سالہ سابق IRGC کمانڈر اور پائلٹ ہیں جنہوں نے ایران–عراق جنگ میں حصہ لیا۔ انہوں نے Khatam al-Anbiya نامی انجینئرنگ بازو کی سربراہی کی، 1997 میں آیت اللہ خامنہ ای نے انہیں IRGC کے فضائیہ کا کمانڈر مقرر کیا، اور بعد ازاں پولیس چیف اور 2005 تا 2017 تک تہران کے میئر رہ چکے ہیں۔ وہ تین مرتبہ صدارتی انتخاب لڑ چکے ہیں۔

ان کے خلاف اثاثہ جاتی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، بشمول سرکاری جائیدادوں کی کم قیمت فروخت اور بیوی کے فاؤنڈیشن کو رقم منتقلی، جن کی شفافیت مشکوک بتائی جاتی ہے۔ مبینہ طور پر ان کی قربت اعلیٰ قیادت سے تحقیقات کو محدود رکھتی رہی اور ان رپورٹس پر صحافیوں کو قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

قالیباف کو IRGC کے اندر مضبوط اثر و رسوخ رکھنے والا سمجھا جاتا ہے اور حالیہ بین الاقوامی کشیدگی میں ان کے کردار کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اگرچہ مذاکراتی رابطوں کی اطلاعات نے ان کا نام سامنے لایا، مگر حکومت کی تردید نے صورتحال کو غیر واضح رکھا ہوا ہے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

کوہستان کرپشن سکینڈل