Skip to main content

فیک سیٹلائٹ تصاویر نے مشرقِ وسطیٰ تنازعہ مسخ کر دیا

World | Deutsche Welle

DW کے فیکٹ چیک کے مطابق حالیہ امریکہ‑اسرائیل‑ایران کشمکش میں جعلی سیٹلائٹ تصاویر تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ کئی پوسٹس میں حقیقی سیٹلائٹ بیس لیئر استعمال کر کے AI سے آگ، دھواں یا نقصان شامل کیا گیا۔ مخصوص مثالوں میں Gemini واٹرمارک والا جعلی منظر، تہران ٹائمز کا غلط مقام دکھانا اور MizarVision کے نام پر بنایا گیا جعلی اکاؤنٹ شامل ہیں۔ ماہرین عوامی لاعلمی، AI اوزار اور محدود اعلیٰ ریزولوشن رسائی کو اس مسئلے کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

DW کا فیکٹ چیک بتاتا ہے کہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ کشمکش میں سیٹلائٹ تصاویر کی جعل سازی عام ہوتی جارہی ہے، اور یہ تصویریں جنگی بیانیوں کو تقویت دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

نمایاں مثالیں

کئی دعوے واضح طور پر جعلی ثابت ہوئے: ایک تصویر میں Gemini کا واٹرمارک ملا جسے قطر کے تیل کے میدانوں میں آگ دکھانے کے لیے پیش کیا گیا، جبکہ ریورس امیج سرچ سے معلوم ہوا کہ آگ بعد میں AI نے جوڑی۔ تہران ٹائمز نے جو ’’قبل و بعد‘‘ دکھایا وہ قطر کا نہیں بلکہ بحرین کے مانامہ میں ایک امریکی نیول اڈہ تھا؛ پہلے والا منظر گوگل ارتھ کا حقیقی کیپچر تھا مگر بعد والا واضح طور پر مصنوعی نکلا۔ ساتھ ہی ImageWhisperer نے متعدد نقشوں میں AI کی نشانیاں اور غیر حقیقت پسندانہ ملبے کے نمونوں کی نشاندہی کی۔ ایک اور کیس میں MizarVision کے نام پر بنایا گیا جعلی اکاؤنٹ اور اسی طرز کی منسوخ تصاویر سامنے آئیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اب AI ٹولز کے ذریعے گوگل ارتھ یا بنگ میپس کی حقیقی تصویروں پر اثرات ڈالنا آسان ہے، جبکہ جنگ کے دوران کمرشل سیٹلائٹ فراہم کنندگان اکثر اعلیٰ ریزولوشن عوامی رسائی محدود رکھتے ہیں، جو معلوماتی خلا کو جعل ساز تصاویر سے بھرنے کا موقع دیتا ہے۔ مبصرین عوام کو محتاط رہنے، مینڈیٹڈ ذرائع اور تصدیق شدہ سیٹلائٹ ڈیٹا کی جانچ پر زور دیتے ہیں تاکہ تنازعے کے بیانیے کو غلط تصاویر نہ موڑ سکیں۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...