ایران جنگ کے بعد بھارت میں سوشل میڈیا سنسرشپ میں اضافہ

World | Deutsche Welle

حالیہ ہفتوں میں بھارت میں سوشل میڈیا پوسٹس کی بڑے پیمانے پر حذف یا پابندیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو حکومت کی امریکہ-اسرائیل کے ایرانی حملوں پر خاموشی کی تنقید کرتی تھیں۔ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے 19 مارچ تک کم از کم 42 ایسے واقعات ریکارڈ کیے، جبکہ محققین کے مطابق فروری کے بعد سے مجموعی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ حکومتی کارروائیاں قومی سلامتی اور عوامی نظم کے جواز پر مبنی ہیں، مگر احکامات شفاف نہیں کیے جاتے اور ناقدین اسے اظہارِ رائے پر حملہ قرار دیتے ہیں۔

حالیہ دو ہفتوں میں بھارت میں ایسی پوسٹس اور اکاؤنٹس کی ہٹانے کی لہر سامنے آئی ہے جو حکومت کی ایران پر ہونے والے امریکی-اسرائیلی حملوں پر خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتی تھیں۔ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے مطابق 11 مارچ کے آس پاس پابندیوں میں اضافہ شروع ہوا اور 19 مارچ تک کم از کم 42 واقعات دستاویز کیے گئے تھے۔

حذف کی گئی چیزوں میں سیاسی کارٹون، طنزیہ ویڈیوز، اپوزیشن کے بیانات اور بعض ریٹائرڈ افسران یا مخالف رہنماؤں کے اے آئی سے بنائے گئے مواد شامل ہیں۔ مثال کے طور پر کارٹونسٹ ستیش اچاریہ کی دو کارٹون بلاک ہوئی، 'The Wire' کی طنزیہ ویڈیوز ہٹائی گئیں اور چند مقبول پیروڈی اکاؤنٹس پر بھی پابندیاں لگیں۔ مارچ کے اوائل میں مقامی شیا علماء اور چند نیوز پورٹلز کے اکاؤنٹس پر بھی پابندیاں عائد ہوئیں۔

قانونی دائرہ اور شفافیت

آن لائن مواد کو ہٹانے کی یہ کارروائیاں ایسے قانونی اختیارات کے تحت ممکن بنائی جاتی ہیں جو حکومت کو پلیٹ فارمز سے براہِ راست مداخلت کرنے کا حق دیتی ہیں، مگر ان ہدایات عام طور پر منظرِ عام پر نہیں آتیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اس عمل میں رازداری شامل ہے، اس لیے ارادے یا فیصلہ سازی کا پتہ چلانا مشکل ہے۔ محققین نے فروری کے بعد ان درخواستوں میں اضافہ نوٹ کیا ہے اور مانتے ہیں کہ اصل تعداد منظرِ عام پر نظر آنے والے سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

سرکار کی وضاحت ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی اور عوامی نظم کی خاطر ضروری ہیں، جبکہ ناقدین، بشمول اپوزیشن، انہیں اظہارِ رائے پر حملہ اور پالیسی پر سوال اٹھانے کی حساسیت قرار دیتے ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مودی کے اسرائیل دورے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے خارجہ پالیسی کو گھریلو سطح پر نمایاں کر دیا ہے، جس کی وجہ سے متعلقہ مباحثہ اور سماجی رابطوں پر ردعمل بھی بڑھا ہے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

کوہستان کرپشن سکینڈل