طالبان نے برلن میں نیا قائم مقام سفارت کار تعینات کیا
جرمن براڈکاسٹر ARD کے مطابق طالبان کے ایک رکن نبراسول ح. کو برلن میں افغان سفارت خانے کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا، جبکہ جرمن حکومت اس تقرری سے لاعلم رہی۔ نبراسول گزشتہ سال جولائی میں ایک کم سطحی قونصلی اہلکار کے طور پر آئے تھے اور جرمنی نے اسی عہدے کے لیے منظوری دی تھی، مگر ARD کے مطابق خفیہ دستاویزات دکھاتی ہیں کہ وہ چارج ڈی’افئرس کے طور پر دستخط اور کارروائی کر رہے ہیں۔ رپورٹس میں سابق سربراہ عبدل پ. کو ہٹاکر نمائشی عہدہ دے دیا گیا اور بنّن میں بھی ایک اہلکار غیر رسمی طور پر قونصل جنرل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
پبلک براڈکاسٹر ARD نے اطلاع دی ہے کہ طالبان کے رکن نبراسول ح. کو برلن میں افغان سفارت خانے کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا، اور اس بارے میں جرمن حکومت کو باخبر نہیں رکھا گیا۔ یہ تعیناتی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برلن طالبان کو افغان حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔
ARD کے مطابق نبراسول گزشتہ سال جولائی میں دو کم سطحی قونصلی اہلکاروں میں سے ایک کے طور پر جرمن اجازت سے پہنچے تھے، تا کہ ناکام پناہ گزینوں کی واپسی کی تیاری میں مدد کریں۔ براڈکاسٹر نے خفیہ دستاویزات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو بتاتی ہیں کہ نبراسول چارج ڈی’افئرس کے طور پر دستخط کرتے اور کارروائی کرتے ہیں، جبکہ جرمن خارجہ دفتر نے کسی اسٹاف تبدیلی کی اطلاع کی تصدیق نہیں کی۔
قانون، سابق سربراہ اور بنّن کا کردار
رپورٹ میں ذکر ہے کہ 1961 کے جنیوا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے تحت میزبان ملک کو سفارتی سربراہ کی تقرری کی منظوری دینا ہوتی ہے، اور ARD نے تنبیہ کی ہے کہ یہ اقدام طالبان کی بیرونی سفارتی کارروائیوں میں اختیار جمانے کی کوشش ظاہر کرتا ہے۔ سابق سربراہ عبدال پ. کو جنوری میں اختیارات سے محروم کر کے محض نمائشی عہدے پر رکھا گیا، البتہ وہ سفارتی رہائش میں رہنے اور سفارتی نمبر پلیٹس والے گاڑی استعمال کرنے کی اجازت رکھتا ہے۔
اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برلن کے علاوہ بنّن میں بھی ایک کم سطحی اہلکار نے غیر رسمی طور پر قونصل جنرل کا کردار سنبھال لیا ہے، اور ARD نے کہا کہ اس طرح جرمنی اب یورپی یونین کا وہ رکن ملک ہے جہاں طالبان مؤثر طور پر سفارت خانہ چلا رہے ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہ ہونے کے باوجود ایک پیچیدہ سفارتی صورتحال پیدا کرتا ہے۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں