Skip to main content

پاکستان پر امریکی‑ایرانی مذاکرات کی میزبانی کا دباؤ

World | Deutsche Welle

پاکستان نے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے خود کو امریکی‑ایرانی مذاکرات کے ممکنہ میزبان کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسلام آباد نے ترکی، مصر اور سعودی عرب سے اعلیٰ سطحی رابطے کیے اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے میزبانی کی پیشکش قبولیت کی، مگر مذاکرات کے طرز اور عمل کی تفصیلات غیر واضح ہیں۔ تہران اور واشنگٹن نے متضاد بیانات دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو اقتصادی اور سیکیورٹی خطرات، ساتھ ہی اندرونی فرقہ وارانہ دبائو کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پاکستان نے خود کو امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان بگڑتے تعلقات کے بیچ ثالثی کے امیدوار کے طور پر اُبھارتایا ہے، اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسلام آباد دونوں فریقوں کے بیچ بامعنی مذاکرات کی میزبانی کرنے کو اعزاز سمجھے گا۔

مذاکرات کی حیثیت اور تنازعے

اتوار کو ترکی، مصر اور سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی، مگر فی الحال واضح نہیں کہ بات چیت براہِ راست ہوں گی یا بالواسطہ۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالی باف نے پاکستان میں مذاکرات کے منصوبوں کو ’’حملے کا پردہ‘‘ قرار دیا اور امریکی افواج کی تعیناتی پر سخت ردِعمل کا اشارہ دیا۔ تہران نے پہلے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے امریکی پندرہ نکاتی امن منصوبے کو نامناسب قرار دے چکا ہے، اور ایرانی وزارتِ خارجہ نے براہِ راست مذاکرات کی موجودگی کی امریکی دعوؤں کی تردید کی ہے۔

واشنگٹن‑اسلام آباد ربط مضبوط ہونے کی وجہ سے پاکستان خود کو ایک قابل قبول ثالث دکھانا چاہتا ہے، مگر ماہرین اشارہ دیتے ہیں کہ اسلام آباد کو سعودی دفاعی معاہدے، ایران کے ساتھ لمبی سرحد اور خلیجی توانائی پر انحصار کے باعث نازک توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ تجزیہ کار رضا رومی اور ماہرِ ایران‑پاکستان فاطمہ امان کے بقول پاکستان کا مقصد تنازع کے گھمبیر نتیجے سے ملکی اقتصادی و سکیورٹی اثرات کو کم کرنا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام رہیں یا جنگ طویل ہو جائے تو بحیرۂ ہرمز سے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے سے پاکستان کو شدید اقتصادی جھٹکے، سرحدی سکیورٹی مسائل، مہاجرین کا دبائو اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ملک میں پہلے ہی گلگت‑بلتستان میں شدید احتجاجی واقعات اور فوجی کارروائی ریکارڈ ہو چکی ہیں، اس لیے اسلام آباد کے لیے سفارتی کامیابی اور داخلی استحکام دونوں یکساں اہم ہیں۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...