Skip to main content

یورپی یونین ساحل کی نئی حکمتِ عملی تلاش کر رہی ہے

World | Deutsche Welle

یورپی یونین افریقی ساحل میں دیگر عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور علاقائی عدم استحکام کے پیشِ نظر اپنی حکمتِ عملی نو مرتبہ ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ جرمن ادارے SWP کی رپورٹ کہتی ہے کہ فوجی بغاوتوں اور جہادی تشدد نے علاقے کو مزید غیر مستحکم بنایا، اس لیے یورپ نے امنیت، اقتصادی ترقی اور خام مال میں 'متوازن شراکت' پر زور دیا ہے۔ عملی اقدامات میں گھانا کے ساتھ سکیورٹی شراکت اور نائجیریا کے لیے سرمایہ کاری پیکیج شامل ہیں۔

یورپی یونین نے ساحل (Sahel) خطے میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام اور روس، چین اور امریکہ جیسے حریفوں کی بڑھتی ہوئی رسائی کے پس منظر میں اپنی حکمتِ عملی کو نئے سرے سے وضع کرنے کا اعلان کیا ہے؛ جرمن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی و سکیورٹی امور (SWP) کی رپورٹ صورتحال کی سنگینی کی نشان دہی کرتی ہے۔

یوروپی خارجہ پالیسی کی سربراہ کا کہنا ہے کہ یورپ اب ڈیولپمنٹ، روزگار اور معاشی نمو پر زور دے رہا ہے۔ گھانا کے ساتھ حالیہ سکیورٹی معاہدے کے تحت دفاعی ساز و سامان اور ڈرونز کی فراہمی جیسی شراکتیں شامل ہیں، جو 2023 میں شروع کیے گئے یورپی پروگرام کے تحت ممکن ہوئیں۔ اسی طرح گلوبل گیٹ وے منصوبے کے تحت نائجیریا کے لیے €290 ملین کے پیکیج کا اعلان کیا گیا جس میں فائبر آپٹک، مقامی دوا سازی، زراعت اور مہاجرین کے پروگرام شامل ہیں۔

چیلنجز اور راستۂ کار

رپورٹ اور ماہرین بتاتے ہیں کہ 2020–2023 کی فوجی بغاوتوں کے بعد یورپ کی موجودگی کم ہوئی اور علاقہ جہادی تشدد اور سرحدی کشیدگی کا شکار ہے؛ یہ ہی اس کی بڑی تشویش ہے۔ ساحل سے یورپ تک مہاجرت کے اہم راستے بھی موجود ہیں، اس لیے یورپ کے لیے بات چیت کو بحال کرنا اور علاقائی حکام کے ساتھ منتخب، عملی تعاون از حد ضروری قرار پایا ہے۔ تاہم ایک طے شدہ €195 ملین ترقیاتی فنڈ رکا ہوا ہے اور یورپی ایکجہتی میں اختلافات، خاص طور پر فرانس کے مؤقف کی وجہ سے، پیش رفت میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

SWP مطالعہ لکھتی ہے کہ اعتماد بحال کرنے کے لیے سفارتی اور سماجی گفتگو از سرِ نو شروع کرنا ضروری ہے؛ اگر یہ کامیاب ہوئی تو یورپ کو علاقائی حکومتوں کے ساتھ محدود اور مخصوص شعبوں میں عملی تعاون آزمانا چاہیے، تاکہ طویل مدتی استحکام، روزگار کے مواقع اور مہاجرتی دباؤ میں کمی ممکن بنائی جا سکے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...