Skip to main content

پاپا لیو چودہم نے خدا کو جنگ کا جواز بنانے کی مذمت کی

World | Deutsche Welle

پاپا لیو چودہم نے پام سنڈے کی نماز میں واضح طور پر کہا کہ خدا یا عیسیٰ کو جنگ کا جواز نہیں بنایا جا سکتا اور انہوں نے ایران میں جاری تنازع کے فوری جنگ بندی کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عیسیٰ 'سلام کے بادشاہ' ہیں اور جنگ کرنے والوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، جبکہ ہوائی حملوں کو بھی غیر امتیازی قرار دے کر فضا میں تشدد کے خلاف کہا۔

پاپا لیو چودہم نے پام سنڈے کی عظیم عبادت کے دوران سینٹ پیٹرز اسکوائر میں جمع لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ خدا یا یسوعِ مسیح کو جنگ کے جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے اور یسوع کو امن کا بادشاہ قرار دیا۔ انہوں نے لاریب انداز میں بتایا کہ جنگ کرنے والوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، اور بائبل کی ایک آیت کی رو کے مطابق خون سے لتھڑے ہاتھ مانگنے والوں کی آواز سنی نہیں جاتی۔

پوپ نے ایران میں جاری تنازع کے دوسرے مہینے میں بارہا فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور مشرقِ وسطیٰ کے مسیحیوں کے لیے دعا کی جنہیں شدید ہلاکت خیزی کے باعث مذہبی رسومات ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے تنازع سے متاثرہ کمیونٹیز کی حالت زار پر تشویش ظاہر کی۔

ہم آہنگی اور تنقید

پاپا نے خصوصی طور پر کسی عالمی رہنما کا نام نہیں لیا، مگر حالیہ ہفتوں میں انہوں نے جنگ کی شدت اور فضائی حملوں کی غیر امتیازی نوعیت پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے اور کہا کہ ہوائیں اور جہاز پیغامِ امن لائیں، تشدد نہیں۔ یہ بیان مذہبی موقف کو اخلاقی دباؤ کے طور پر پیش کرتا ہے۔

عملی طور پر بعض امریکی عہدیداروں نے مسیحی زبان استعمال کر کے فروری کے آخر میں شروع ہونے والے مشترکہ امریکی-اسرائیلی حملوں کا دفاع کیا؛ پینٹاگون میں ایک مذہبی تقریب میں دفاعی وزیر نے سخت کارروائی کے حق میں دعا کی۔ پوپ کے پیغام کا ممکنہ اثر بین الاقوامی سیاسی و مذہبی مباحث میں اخلاقی موقف مضبوط کرنا اور جنگ بندی کے لیے دباو بڑھانا ہو سکتا ہے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...