Skip to main content

چین کس طرح ایران جنگ کی تشہیر کر رہا ہے

World | Deutsche Welle

چینی سرکاری میڈیا کی تیار کردہ ایک AI ویڈیو — جس میں فارسی بلیاں اور سفید عقاب کے ذریعے تنازعے کی تمثیل دکھائی گئی — تیزی سے وائرل ہوئی اور بیجنگ کی عام بیانیے کی عکاس ہے: امریکہ جارح اور زوال پذیر حاکم قوت جبکہ چین پُرسکون ابھرتی ہوئی طاقت۔ یہ علامتی مواد سرکاری خبر ایجنسیوں، ڈیجیٹل اثرورسوخ اور عسکری سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے عوامی رائے ترتیب دینے کی کوشش کو تقویت دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس حکمتِ عملی میں AI اور مقبول ثقافتی انداز استعمال کر کے پیغام کو ہضم کرنا آسان بنایا جا رہا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کی تیار کردہ ایک AI ویڈیو، جو فارسی بلیوں اور سفید عقاب کے تمثیلی منظرنامے کے ذریعے ایران تنازعے کی عکاسی کرتی ہے، جلد ہی وائرل ہو گئی اور اس نے بیجنگ کے اندرونی بیانیے کو عیاں کر دیا: امریکہ کو جارح و نوآمر طاقت کے طور پر پیش کرنا جب کہ چین کو پرامن اور مستحکم ابھرتی ہوئی قوت دکھانا۔

ویڈیو میں ایک سنہری وادی، مخصوص ذرائعِ قدرتی (جسے ویڈیو علامتی طور پر پیش کرتی ہے) اور تجارتی پابندیوں کا حوالہ دیا گیا؛ ایک عقاب بظاہر حکمراں جگہ پر قابض دکھائی دیتا ہے، اور بلیوں کی قیادت کے خاتمے کے بعد عدم توازن کی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اس مختصر متحرک فلم نے چند گھنٹوں میں لاکھوں لائکس حاصل کیے اور آخر میں مارشل آرٹس کا اخلاقی پیغام پیش کیا، جب کہ بی آر آئی کو ایک متبادل راہ کے طور پر ضمنی طور پر دکھایا گیا۔

تجزیاتی نقطۂ نظر

سرکاری خارجہ پالیسی بیانات اور ژنژواہ نیوز ایجنسی کی سخت زبان چین کی تشریح کو تقویت دیتی ہے، جب کہ مقامی سوشل پلیٹ فارمز پر اثرورسوخ رکھنے والے اور فوجی اکاونٹس اس پیغام کو آسان، دلکش شکل میں پھیلا رہے ہیں — ایک فوجی ڈوئن پوسٹ پر ہزاروں لائکس سے کہیں زیادہ توجہ ملی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ AI اور وُوشیا طرز کے ثقافتی حوالوں کا استعمال سرکاری بیانیے کو عام ناظرین کے لیے زیادہ قابلِ قبول اور دلچسپ بناتا ہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق یہ حکمتِ عملی طویل مدتی سیاسی مقاصد میں فِٹ ہوتی ہے: واشنگٹن کے خلاف مؤقف کو مسلط کر کے چین اپنی خود کو استحکام فراہم کرنے والی قوت کے طور پر دکھانا چاہتا ہے اور اسی تصوراتی فریم ورک سے اندرونی عوامی رائے کو تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...