Skip to main content

چینی ریاستی ویڈیو امریکہ کو جارح دکھاتی ہے

World | Deutsche Welle

چینی ریاستی میڈیا نے ایک AI تیار کردہ مختصر ویڈیو کے ذریعے ایران-امریکہ تنازعے کی تشریح کی ہے، جس میں فارسی بلیاں اور سفید عقاب استعاروں کے ذریعے امریکہ کو جارح اور زوال پذیر قوت جبکہ چین کو پرامن ابھرتی طاقت دکھایا گیا۔ ویڈیو اور دیگر سرکاری مواد، شورت ویڈیوز اور فوجی پوسٹس کے ذریعے اندرونی ناظرین کے لیے سادہ، قوم پرستانہ پیغامات میں ڈھالے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حکمتِ عملی طویل المدت سیاسی مفادات اور بیلٹ اینڈ روڈ کو متبادل راستے کے طور پر اجاگر کرنے کا حصہ ہے۔

چینی سرکاری میڈیا نے حال ہی میں ایک AI تیار کردہ مختصر ویڈیو وائرل کر کے ایران-امریکہ تنازعے کی تصویر کشی ایسی قوت کے طور پر کی ہے جو امریکہ کو بے احتیاط، جارح اور عالمی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، جبکہ چین کو مستقل اور پُرسکون شریکِ کار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں فارسی بلیاں انتقام کا خواہاں دکھائی گئی ہیں اور سفید عقاب کو سلطنتِ صحرائی میں غلبہ رکھنے والا قرار دیا گیا ہے؛ تجارت کے لیے مخصوص 'سفید عقاب کے سونے کے ٹکٹس' اور کمیاب وسائل 'کالے لوہے کی ماہیت' جیسی علامتی تفصیلات استعمال کی گئی ہیں۔ ایک رہنما کے قتل کے بعد غیر متناسب جنگ اور مہنگے 'اینٹی ایئر سنہری سوئیوں' کے ذریعے سستے 'لکڑی کے پرندوں' کو نشانہ بنانے کا منظر پیش کیا جاتا ہے۔

میڈیا حکمتِ عملی

سرکاری نشریات، مانند ژن ہوآ، اور مقبول شارٹ ویڈیو اثراندازوں نے اس مرکزی تاثر کو گھریلو سامعین کے لیے آسان، قوم پرستانہ ٹکڑوں میں تبدیل کیا ہے، جبکہ فوجی اور سرکاری اکاؤنٹس نے سیٹلائٹ شبیہیں اور تجزیات کے ذریعے امریکی تعیناتیاں دکھائیں — جن پوسٹس کو کروڑوں لائکس ملے۔ مبصرین کہتے ہیں AI اور 'وُسمیا' جیسے مقبول ثقافتی انداز سرکاری پیغام کو مزید قابلِ قبول اور پرکشش بناتے ہیں۔

ماہرین اس حکمتِ عملی کو چین کی طویل المدت سیاسی تصویر کشی کا حصہ قرار دیتے ہیں جس کا مقصد امریکا کو نو-امپیریل طاقت کے طور پر پیش کرنا اور چین کو عالمی استحکام فراہم کرنے والا کھلاڑی دکھانا ہے؛ ویڈیو کے آخر میں مارشل آرٹس کی حکمت اور بیلٹ اینڈ روڈ کو امریکی اقتصادی غلبے سے بچنے کا ضمنی حل کے طور پر فروغ دینا بھی شامل ہے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...