سوریہ میں لاکھوں افراد کی گمشدگی کے باعث بیش از 100,000 خواتین نہ صرف جذباتی بلکہ قانونی طور پر بھی زندگی آگے نہیں بڑھا سکتیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق 150,000 تا 170,000 افراد لاپتہ ہیں۔ 1953 کے ذاتی حیثیت کے قانون اور حالیہ سرکلر نمبر 17 نے مردانہ سرپرستی کو مضبوط رکھا ہے جس سے بیویاں، بچوں کی دستاویزات، وراثت اور حضانت کے مسائل کا شکار ہیں۔ ایک قومی ادارہ تو قائم ہوا مگر بڑے اصلاحاتی قدم مؤخر ہیں، جس کے خلاف سرگرم خواتین پارلیمنٹ سے قانون میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
سوریہ کی ایسی ہزاروں بیوائیاں جن کے خاوند جنگ کے دوران لاپتہ ہو گئے، اب قانونی خلا ختم کرنے کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں اور ذاتی حیثیت کے قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں کے اندازے کے مطابق ملک میں 150,000 تا 170,000 افراد لاپتہ ہیں اور زیادہ تر مرد ہیں۔
قانونی ڈھانچہ اور روزمرہ مشکلات
1953 کا ذاتی حیثیت کا قانون طے کرتا ہے کہ گمشدہ شخص کو عدالت تب ہی مردہ قرار دے سکتی ہے جب وہ 80 برس کا ہو، یا اگر گمشدگی مسلح تنازع کے باعث ہوئی ہو تو چار سال بعد موت کا قانونی مفروضہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس خاکہ نے مرد رشتہ داروں کو اہم فیصلوں کا اختیار دے رکھا ہے، جس سے بیویاں شادی، وراثت، پینشن یا بچوں کی مکمل کفالت کے حقوق سے محروم رہ جاتی ہیں۔ ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ خاندان کی مداخلت کے باعث اس کے شوہر کے لیے موت کا سرٹیفکیٹ نہیں مل سکا اور اس کے بیٹے کو 18 سال تک کاغذی امور میں رشتہ داروں کی منظوری درکار ہے۔
حالیہ تبدیلیاں بھی صورتحال کو سخت کر رہی ہیں: دسمبر 2025 میں جاری سرکلر نمبر 17 نے عدالتی سختی کم کر دی اور قانونی سرپرستی کو مرد رشتہ داروں تک محدود کر دیا، جس سے ماؤں کی حیثیت مزید کمزور ہوئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس خلا سے بچوں کو تعلیم اور صحت جیسی بنیادی خدمات تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔ قومی اتھارٹی برائے گمشدہ افراد قائم تو ہوئی مگر فی الوقت وسیع اصلاحات مؤخر ہیں۔
اس قانونی خلا کے خلاف مہم چلانے والی سرگرم کارکن یافہ نوّاف نے "میرے بچے، میرا حق" کے تحت ہزاروں خواتین کو اکٹھا کیا اور عوامی اسمبلی سے آئین کے تناظر میں ذاتی حیثیت کے قانون میں بنیادی اصلاحات، بالخصوص حضانت و سرپرستی کے معاملات میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اصلاحات کے لیے نہ صرف قانون بلکہ ادارہ جاتی ذہنیت میں تبدیلی ضروری ہے، جبکہ بعض ماہرین مختلف برادریوں کے مخصوص قوانین کے ساتھ ایک مربوط فریم ورک کی طرف راہ حل تجویز کرتے ہیں۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
Comments
Post a Comment