Skip to main content

بلاک کے باوجود امریکہ نے روسی آئل ٹینکر کو کیوبا آنے دیا

World | Deutsche Welle

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ نے روسی بحری جہاز Anatoly Kolodkin کو کیوبا کی جانب آنے کی اجازت دے دی، حالانکہ واشنگٹن نے جنوری میں جزیرے پر ایندھن کی غیر رسمی ناکہ بندی عائد کر رکھی تھی۔ ٹینکر میں مبینہ طور پر 730,000 بیرل خام تیل ہے اور اسے منٹانسز بندرگاہ پہنچنے کی توقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ نے روسی آئل ٹینکر Anatoly Kolodkin کو کیوبا کے قریب آنے کی اجازت دے دی، حالانکہ واشنگٹن نے اس سال جنوری میں جزیرے کے خلاف ایک عملی ایندھن کی ناکہ بندی نافذ کی ہوئی تھی۔ نئے اطلاقات کے مطابق یہ جہاز بحرِ اوقیانوس میں کیوبا کے مشرقی سرے کے قریب اترا ہوا دکھائی دیا اور اسے ماتانزاس بندرگاہ تیزی سے پہنچنے کی توقع ہے۔

کارگو اور جزیرے کی صورتِ حال

اس ٹینکر میں مبینہ طور پر 730,000 بیرل خام تیل ہے اور شپ ٹریکنگ کے مطابق یہ اتوار کو بارہ نوٹ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا، جب کہ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اطلاع دی کہ یہ منگل کو ماتانزاس پہنچنے والا ہے۔ کیوبا توانائی کی شدید قلت کا شکار ہے اور جنوری کے بعد یہ پہلی بڑی ترسیل ہو سکتی ہے؛ ملک کے 9.6 ملین باشندوں کو کئی راتوں تک بجلی کے کٹاؤ کا سامنا رہا ہے۔

روانگی اور بین الاقوامی نگرانی

ٹینکر 8 مارچ کو روسی بندرگاہ پرئمورسک سے روانہ ہوا تھا۔ بریٹش رائل نیوی نے 19 مارچ کو اپنے جنگی جہاز HMS Mersey اور ایک ہیلی کاپٹر روانہ کر کے حرکات کا مشاہدہ کیا اور بتایا کہ ایک روسی بحری جہاز نے اسے انگلش چینل عبور کرتے وقت اسکورٹ کیا۔ نیویارک ٹائمز نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی کوسٹ گارڈ نے اس مجوزہ سفر کی اجازت دی، اور بعض رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے عالمی تیل کی رسد بہتر بنانے کے لیے اس ماہ عارضی نرمی بھی کی۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...