Skip to main content

پسٹوریئس: عالمی قواعدی نظام کمزور ہو رہا ہے

World | Deutsche Welle

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے اپنے آٹھ روزہ انڈو پیسفک دورے میں خبردار کیا کہ طویل عرصے سے قائم قواعدی بین الاقوامی نظام پر دراڑیں پڑ رہی ہیں اور اسے نئی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وسطی قوتوں کے تعاون، یورپ اور انڈو پیسفک کے قریبی ربط اور بڑے طاقتوں کی شرکت کے ساتھ قواعد کے مرکز میں تبدیلی کی بات کی۔ پسٹوریئس نے روس اور چین کے رویوں کا ذکر کیا اور جرمنی کی زیادہ خود مختاری پر زور دیا۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے اپنے آٹھ روزہ انڈو پیسفک دورے میں کہا کہ طویل المدت قواعدی بین الاقوامی نظام خطرے سے دوچار ہے اور اس کے دفاع کے لیے نئے سیاسی اتحاد اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ان کے دورے میں جاپان، سنگاپور اور آسٹریلیا میں ملاقاتیں شامل تھیں جہاں اس موضوع پر زور دیا گیا۔

میزبانوں نے بھی قواعد کے تحت عالمی نظام کی اہمیت دہرائی؛ کینبرا میں آسٹریلین وزیر دفاع نے دونوں ممالک کی جانب سے قومی اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا۔ پسٹوریئس نے علاقائی اور یورپی مفادات کے باہمی انحصار کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ آج کے جال نما عالم میں بحرانیں ایک خطے سے دوسرے خطے تک اثر انداز ہوتی ہیں۔

وسطی قوتوں کا کردار

پسٹوریئس نے روایتی انحصارِ سلامتی سے کچھ حد تک خود انحصاری کی ضرورت پر بات کی اور ایسے اتحاد کی ترجیح دی جو وسطی قوتیں—جیسے جاپان، سنگاپور، آسٹریلیا اور جرمنی—بنا سکیں، جس میں گلوبل ساؤتھ کی شمولیت بھی شامل ہو۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بڑے طاقتوں کی شرکت ضروری ہے، البتہ قواعد اور ترجیحات کو بدلنے کے لیے جس قدر ہمت درکار ہے وہ ابھی سامنے آنی ہے۔

وزیر دفاع نے روس کو جارح اور از سرِ نو ترتیب چاہنے والا قرار دیا اور چین کے اثر و رفتار کا مقابلہ کرنے کی بات کی؛ ساتھ ہی انہوں نے امریکہ سے نسبتی خود مختاری پر زور دیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت اور انڈونیشیا جیسے ممالک کا اس نئے توازن میں حصہ لینے کا انداز مختلف اور غیر یقینی ہے، اور شمولیت کے لیے ان کے تاریخی اور علاقائی حساس نقاط کو مدنظر رکھنا ہوگا۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...