نیپال کے نئے وزیر اعظم اور بین الاقوامی توازن

World | Deutsche Welle

بیلن کے نام سے مشہور 35 سالہ بالندرہ شاہ نے بطور وزیر اعظم حلف اٹھا لیا ہے۔ اس کی جماعت، راسٹرِیا سواتنترا پارٹی، نے حالیہ انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی اور اب نئی حکومت کو بھارت، چین اور امریکہ کے درمیان دلّی، بیجِنگ اور واشنگٹن کے توازن کو برقرار رکھتے ہوئے اقتصادی ترقی اور بدعنوانی کے خلاف وعدے پورا کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ غیر روایتی قیادت خارجہ پالیسی میں نظریاتی تعصبات نہیں لائے گی مگر جغرافیائی سیاست پیچیدہ رہ سکتی ہے۔

بیلن کے نام سے مشہور 35 سالہ بلندر شاہ نے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے اور اپنی نوجوان قیادت کے ساتھ ایک ایسے مرحلے پر اقتدار سنبھالا ہے جس میں اسے بھارت، چین اور امریکہ کے ساتھ نازک توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

اس کی جماعت راسٹرِیا سواتنترا پارٹی، جو 2022 میں قائم ہوئی، نے پارلیمنٹ کی نچلی مجلس میں 82 نشستیں جیتیں۔ اس انتخابی نتیجے نے روایتی سیاسی طبقات کو چیلنج کیا؛ سابق وزیراعظم کے پی شرمہ اولی کی جماعت اب کافی کم نشستیں لے سکی۔ شاہ خود پیشے سے انجینئر اور سابق میئر ہیں، جبکہ پارٹی کے چیئرمین ربی لامِچھانے سابق میڈیا شخصیت اور سابق نائب وزیر اعظم رہے ہیں۔

بین الاقوامی محاذ

حکومت کے بیرونی تعلقات کے بارے میں پارٹی منشور میں اقتصادی مفادات پر زور ہے اور اسے ایک "پل" بنانے کی بات کی گئی ہے جو بھارت اور چین کے درمیان مفادات کو ہم آہنگ کرے۔ بھارت، چین اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے نئی قیادت کو مبارکباد دی ہے اور لامِچھانے نے "ترقیاتی سفارتکاری" پر زور دیا۔ نیپال کی خارجہ پالیسی روایتی طور پر غیر جانب دار رہنے کی کوشش رہی ہے؛ ملک بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل ہے اور 2022 میں امریکہ کے ساتھ ملینئم چیلنج کارپوریشن کا $550 ملین معاہدہ طے پایا تھا۔

تجزیہ کار اور سابق حکومتی عہدیدار خبردار کرتے ہیں کہ نئی قیادت کے لیے Lipulekh پاس جیسے مسائل اور چین و بھارت کی جغرافیائی دلچسپیاں آزمائش ثابت ہوسکتی ہیں۔ حکومتی عہدے دار کہتے ہیں کہ خارجہ پالیسی قومی مفادات اور آئینی حدود کے تحت عملی ہوگی، جبکہ مبصرین انتباہ دیتے ہیں کہ غیر تجربہ کار قیادت کو پیچیدہ عالمی مسابقت سے نمٹنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

کوہستان کرپشن سکینڈل