ایک ماہ بعد ایران اور امریکہ-اسرائیل کے تصادم کے دوران پاکستان نے خود کو ثالث کے طور پر آگے پیش کیا جبکہ بھارت نے محتاط پالیسی اختیار رکھی، توانائی کی سلامتی اور بیرونِ ممالک مزدوروں کی حفاظت کو مقدم رکھا۔ اسلام آباد کے بظاہر ثالثی کردار کی تردید دونوں فریقین نے نہیں کی، جب کہ بھارتی اپوزیشن اور ماہرین نے نئی خارجہ حکمتِ عملی پر سوال اٹھائے ہیں۔
ایک ماہ کے بعد ہونے والے تنازع میں پاکستان نے خود کو ثالث کے طور پر رفعت دی ہے؛ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ اسلام آباد جلد امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کی میزبانی کرے گا، حالانکہ واشنگٹن یا تہران نے اس کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی۔ اس دوران بھارت نے محتاط بیانیہ رکھا، تحمل اور ہوشیاری کی تاکید کی اور توانائی و بیرونِ ملک بسنے والے باشندوں کی سلامتی کو ترجیح دی۔
نہ صرف حکومتی حکمتِ عملی بلکہ اندرونِ ملک سیاسی ردِعمل بھی نمایاں ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے موجودہ خارجہ پالیسی پر تنقید کی اور کہا کہ پاکستان کے سفارتی اقدامات تاثر اور کہانی سازی میں بھارت سے بہتر رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اسلام آباد کی اس واضح مصروفیت نے اسے واشنگٹن میں وقتی طور پر زیادہ مرئی اور مفید شراکت دار بنا دیا ہے۔
تجزیاتی منظرنامہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی حکمتِ عملی کا مطلب یہ نہیں کہ ساختی توازن بدل گیا ہے۔ شنتھی مریٹ ڈسوزا نے نشاندہی کی کہ بھارت کا جنگ کو دور کا معاملہ قرار دینا اس کے ماضی کے ثالثانہ دعووں سے متصادم ہے اور طویل جنگ کے اقتصادی اثرات تاثر بدل سکتے ہیں۔ وزیرِ خارجہ س. جے شنکر نے واضح کیا کہ بھارت کسی درمیانی کردار میں دلچسپی نہیں رکھتا، جبکہ وزیرِ اعظم نے توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ذخائر اور متنوع درآمدات کا حوالہ دیا۔
سابق سفارت کار اجے بساریا کے مطابق پاکستان کا کردار عموماً وقتی سہولت کاری تک محدود رہتا ہے — واشنگٹن میں فوری مرئیت مل سکتی ہے مگر بھارت کا طویل مدتی اقتصادی اور اسٹریٹجک وزن برقرار ہے۔ ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ چیلنج یہ ہے کہ نئی دہلی اپنی متوازن پالیسی کو جب مذاکراتی مواقع آئیں تو واضح اثر میں بدل سکے۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
Comments
Post a Comment