Skip to main content

زیلنسکی دوحہ پہنچے؛ یوکرائن اور قطر کا دفاعی معاہدہ

World | Deutsche Welle

یوکرائن کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے غیر اعلان شدہ دورے پر دوحہ کا دورہ کیا جہاں قطر کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ طے پایا۔ یہ پیش رفت خلیجی شراکت داری کی توسیع کا حصہ ہے، جب کہ اسی روز روسی ڈرون حملوں میں شہری ہلاک اور بندرگاہی نقصان بھی رپورٹ ہوا۔

یوکرائن کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے غیر اعلان شدہ دورے پر دوحہ کا دورہ کیا اور قطر کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ طے پایا، جس کا اعلان دونوں جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا۔

معاہدہ اور تعاون

قطری وزارت دفاع کے بقول معاہدہ تکنیکی شعبوں، مشترکہ سرمایہ کاری اور میزائل اور بغیر پائیلٹ ہوائی نظاموں کے خلاف صلاحیتوں کے تبادلے پر مشتمل ہے۔ یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ مشابهہ معاہدے اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ زبانی سمجھوتے کے بعد آیا ہے۔ زیلنسکی نے خلیجی ریاستوں کو یوکرائینی ڈرون اور اینٹی ڈرون مہارتوں کی پیشکش کرنے کا کہا، اور شراکت کو حقیقی سکیورٹی کی بنیاد قرار دیا۔

حملے اور ردعمل

اسی دوران روسی ڈرون حملوں میں اوڈیسا، پولٹاوہ اور کریوئی ریہ (زیلنسکی کا آبائی شہر) میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق رات بھر 273 ڈرون داغے گئے جن میں سے 252 کو گرایا یا برقی طریقے سے ناکارہ بنایا گیا؛ 60 ڈرون اوڈیسا کی جانب بھیجے گئے۔ حکام نے کہا کہ بندرگاہی بنیادی ڈھانچے اور دفاتر کو نقصان پہنچا۔ کئی روسی ڈرون ایرانی شاہد ڈیزائن پر مبنی بتائے جا رہے ہیں، جبکہ یوکرائن اینٹی ڈرون جنگ میں اہم تجربہ کار بن گیا ہے۔

وفاقی بیان میں یوکرائن نے متحدہ عرب امارات میں اپنے اینٹی ڈرون ساز و سامان کے ڈپو کے تباہ ہونے کی ایران کی دعویٰ سختی سے مسترد کی۔ زرلینسکی نے اس ماہ خلیج کے لیے 201 اینٹی ڈرون ماہرین بھیجنے کا بھی اعلان کیا تھا تاکہ متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب اور کویت کی مدد کی جا سکے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...