ٹاکائچی کا واشنگٹن دورہ: تجارتی، توانائی اور دفاعی معاہدے
جاپانی وزیر اعظم سناے ٹاکائچی کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات ہموار رہی، جس میں دونوں طرف سے بڑے اقتصادی اور دفاعی معاہدوں کا اعلان کیا گیا۔ ٹوکیو نے امریکا میں تقریباً 73 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری، نادر زمینی معدنیات کے متبادل اور ری ایکٹر منصوبوں کا وعدہ کیا، جبکہ دونوں ممالک نے شپ بلڈنگ، مصنوعی ذہانت اور توانائی تعاون میں توسیع پر اتفاق کیا۔ ملاقات کے دوران جاپان نے مشرقِ وسطیٰ میں پسپائی اور فوجی شمولیت کے سلسلے میں اپنی آئینی حدود بھی واضح کر دیے۔
جاپانی وزیر اعظم سناے ٹاکائچی کی واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات غیر معمولی عالمی کشیدگی کے باوجود عمومی طور پر ہموار رہی اور دونوں ملکوں نے وسیع اقتصادی، توانائی اور دفاعی تعاون کے منصوبے سامنے رکھے۔
اہم معاہدے اور سرمایہ کاری
واشنگٹن میں اعلان کیا گیا کہ جاپان امریکی منصوبوں میں 73 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کرے گا، جو گزشتہ سال کے مجموعی 550 ارب ڈالر کے ٹیکاؤٹ کا حصہ ہے۔ منصوبوں میں ٹینیسی اور الاباما میں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز، چین کے متبادل کے طور پر نایاب زمینی معدنیات اور کریٹیکل منرلز کی فراہمی، شپ بلڈنگ کی صنعت کی بحالی، اور مصنوعی ذہانت و جدید ٹیکنالوجی کی ترقی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان الاسکا کا خام تیل خریدنے اور پیداوار و ریفائننگ کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بڑھانے کا وعدہ بھی کرتا ہے۔
سلامتی، آئینی حدود اور سیاسی ماحول
ملاقات میں، ٹاکائچی نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا اور ہرمز تنگی میں ہونے والے حملوں کی مذمت کی، ساتھ ہی ایران کے جوہری اہداف روکنے پر زور دیا۔ صدر ٹرمپ نے عوامی طور پر ٹوکیو سے جنگی جہاز طلب نہیں کیے؛ جاپان کا pacifist آئین براہِ راست فوجی اقدام کی مانگ کو روک دیتا ہے اور عموماً عوام اس جنگ کے خلاف ہیں، جس کی وجہ سے فورسز بھیجنے کا مطالبہ عملی نہیں بن سکتا۔
ملاقات کے دوران ایک ناخوشگوار لمحہ پیئرل ہاربر کے حوالے سے ہونے والی لطیفے نما کمنٹس پر آیا، مگر مجموعی تاثر یہ رہا کہ رابطے کامیاب رہے۔ ٹاکائچی نے ٹرمپ کی قیادت کی تعریف بھی کی اور واشنگٹن میں جاپانی موقف کے لیے حفاظت اور شراکت میں پیش رفت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، جن میں 'گولڈن ڈوم' میزائل دفاعی نظام میں شمولیت کی درخواست بھی شامل تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ بندی کے بعد جاپان ممکنہ طور پر لاجسٹک یا مین سویپنگ امداد فراہم کر سکتا ہے، مگر براہِ راست فوجی تعیناتی آئینی حدود کی وجہ سے ناممکن سمجھی جاتی ہے۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں