Skip to main content

اسرائیل کا نیا سزائے موت قانون منظور

World | Deutsche Welle

اسرائیل کی کنسٹ نے دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت کے نفاذ کے حق میں بل منظور کر لیا۔ قانون دو راستوں پر مبنی ہے: عام فوجداری عدالتیں اور مقبوضہ مغربی کنارے کی فوجی عدالتیں، جہاں جرائم ثابت ہونے پر لازمی طور پر موت کی سزا دی جا سکے گی۔ بل 62 کے مقابلے 48 ووٹوں سے پاس ہوا، مگر اس کی قانونی حیثیت اسرائیل کی اعلیٰ عدالت کے ذریعے چیلنج یا ترمیم کا نشانہ بن سکتی ہے۔ انسانی حقوق گروپوں اور بین الاقوامی حلقوں نے اسے امتیازی اور بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیا ہے۔

اسرائیل کی کنسٹ نے ایک متنازعہ قانون منظور کیا ہے جو دہشت گردی کے مرتکب قرار پانے والے افراد کے لیے سزائے موت کا نفاذ ممکن بناتا ہے۔ قانون میں خاص طور پر مغربی کنارے کی فوجی عدالتوں کے لیے سخت شقیں شامل ہیں جہاں مجرموں کو موت کی سزا لازمی طور پر سنائی جا سکتی ہے۔ منظورگی کا ووٹ 62 کے مقابلے 48 رہا اور قانون سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثر ہو سکتا ہے۔

قانون کا پس منظر وہی تاریخی مقبوضہ حقائق ہیں کہ اسرائیل نے عام زمانے میں 1954 میں سزائے موت ختم کر دی تھی، تاہم جنگی جرائم اور مخصوص حالات میں یہ فنی طور پر ممکن رہ گئی۔ ماضی میں سزائے موت کی تو دو مثالیں ہیں: 1948 میں میر توبیانسکی اور 1962 میں ایڈولف ایکہمین۔ اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد سیاسی دائرے میں اس قانون کی زوردار وکالت ہوئی۔

اہم شقیں

بل دو ٹریک آزمائشیں وضع کرتا ہے: اسرائیلی فوجداری عدالتیں اور مغربی کنارے کی فوجی عدالتیں۔ مخصوص طور پر فوجی عدالتوں میں دہشت گردی کے جرائم پر موت کی سزا لازمی رکھی گئی ہے، اور صرف ‘‘خصوصی وجوہات’’ ثابت ہونے پر ہی سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا جا سکے گا۔ فیصلوں کے لیے اکثریت کافی ہوگی اور اپیل کے راستے محدود رکھے گئے ہیں۔ عملدرآمد کے مطابق قید خانہ محکمہ نوٹس کے 90 دن کے اندر پھانسی کروائے گا، جو پھانسی کا طریقہ معین کرتا ہے؛ وزیر اعظم 180 دن تک تاخیر کی درخواست کر سکے گا۔ یہ قانون ماضی کے واقعات پر باقاعدہ طور پر لاگو نہیں کیا جائے گا، البتہ اکتوبر ہتھیاروں کے مقدمات کے لیے علیحدہ فوجی ٹریبونل کا بل بھی زیرِ غور ہے۔

تنقید و ردعمل

قانون کو انتہا پسند جماعت اوٹزما یہودیت کے رہنماؤں سمیت حکومتی حلیفوں کی حمایت حاصل ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں، بعض قانون دانوں اور بین الاقوامی اداروں نے شدید تنقید کی ہے۔ بی تسلیم نے فوجی عدالتوں کی تقریباﹰ 96 فیصد سزاوں اور مبینہ جبری اعترافات کی نشاندہی کی ہے، اور کنسٹ کے ایک قانونی مشیر نے معافی کے میکانزم نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی۔ رام اللہ اور بین الاقوامی حلقوں سے بھی اسے امتیازی اور بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیا گیا ہے، جب کہ یورپی یونین اور ماہرین نے بل پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...