Skip to main content

سربیا کے بلدیاتی انتخابات: ووچیچ کی پارٹی کی گرفت کمزور؟

World | Deutsche Welle

صدارتی جماعت سرbian Progressive Party (SNS) نے دس بلدیاتی علاقوں میں باضابطہ طور پر جیت کا اعلان کیا، جب کہ 247,985 اہلِ رائے دہندگان تھے۔ نتائج کاغذ پر مکمل فتح دکھاتے ہیں مگر حقیقی منظرنامہ مختلف ہے: مبینہ ووٹ خریدنے، سرکاری وسائل کے استعمال، انتخابی دھاندلی اور منظم تشدد کی شکایات سامنے آئیں۔ کئی مقامات پر جیت بہت کم مارجن سے طے ہوئی، جس سے پارٹی کی مقامی مقبولیت میں دراڑوں کی نشاندہی ہوتی ہے اور مستقبل میں قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا امکان زیرِ غور ہے۔

سرِبیا کی حکمران جماعت نے دس مقامی حلقوں میں فاتح ہونے کا اعلان کیا جبکہ 247,985 افراد ووٹ دینے کے اہل تھے؛ تاہم نتائج نے واضح کیا ہے کہ کاغذی فتح کے باوجود سیاسی دائرہ کمزور پڑ سکتا ہے۔

الزامات اور تشدد

مشاہدہ کاروں نے انتخابی عمل پر شدید تحفظات اٹھائے: سرکاری ذرائع کا انتخابی مہم میں استعمال، سرکاری ملازمین کے ذریعے پارٹی مہم، ووٹ خریدنے، بیلٹ سیکریسی کی خلاف ورزی، اور ‘‘بلغاریئن ٹرین’’ جیسی ترتیب شدہ دھاندلیوں کی رپورٹس موصول ہوئیں۔ دنِ انتخابات پر منظم طرزِ عمل اور ووٹر ٹریکنگ کے نشانات ملے جن پر مبینہ سیاسی پشت پناہی کے شبہات ہیں۔

کئی شہروں میں ماسک پہنے ہوئے افراد لاٹھیاں اور بعض مقامات پر کلہاڑیاں لے کر شہریوں، صحافیوں اور مبصرین پر حملے کر رہے تھے؛ مبصرین نے اس روز کو شہریوں کے خلاف ‘‘دہشت’’ قرار دیا۔ بعض سرکاری یا حامی ذرائع نے ان واقعات کو جمہوریت کا دفاع قرار دینے کی کوشش کی، جبکہ پولیس کا ردِ عمل کئی جگہ غیر موثر یا تاخیر والا رہا۔

نتائج کے مارجن پہلے کی نسبت بہت تنگ تھے اور کئی جگہوں پر جیت چند سو ووٹوں تک محدود رہی، جس سے SNS کو بعض جگہوں پر اتحادیوں پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اور مبصرین اس میں ترکیب و رابطے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں اور سیاسی محاذ آرائی کے اگلے مرحلے کے طور پر قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے امکانات زیرِ بحث ہیں۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...