Skip to main content

لفیو میں یونیسکو ورثہ مقامات پر روسی حملہ

World | Deutsche Welle

23 سے 24 مارچ کی شب ہونے والے وسیع روسی حملے میں تقریباً 1,000 ڈرون اور 34 میزائل استعمال کیے گئے، جس سے مغربی یوکرین کے کئی شہروں کے ساتھ لفیو کا تاریخی مرکز بھی متاثر ہوا۔ اس حملے میں چند افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے؛ سینٹ اینڈریو چرچ، ریاستی تاریخی آرکائیو اور نیشنل میوزیم-میموریل کو نقصان پہنچا۔ یوکرین کلچرل منسٹری زخمی ورثے کی دستاویز کاری کر رہی ہے اور یونیسکو ماہرین کو بھیجا جا رہا ہے، جبکہ حکام روس کے خلاف ثقافتی شعبے میں سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

23 سے 24 مارچ کی شب روسی فضائی کارروائی میں لگ بھگ 1,000 ڈرون اور 34 میزائل داغے گئے، جسے مبصرین اب تک کی سب سے بڑی روسی شٹرکہ قرار دے چکے ہیں۔ اس حملے میں لفیو کے تاریخی مرکز کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چند افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے۔

حملے میں سینٹ اینڈریو چرچ، جو سابقہ 17ویں صدی کے برنارڈائن صومعے کا حصہ ہے، اور اس کے ساتھ ملحقہ مرکزی ریاستی تاریخی آرکائیو کو نقصان پہنچا۔ آرکائیو میں برنارڈائن آرکائیو (1784) کے مواد اور چند اہم 12ویں صدی کے بیرچ بارک مخطوطات بھی موجود ہیں۔ ادارے کے سربراہ نے عمارت، شیشے اور نقاشیوں کو متاثر ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ عملہ کاغذی مواد کی ڈیجیٹل حفاظت پر دن رات کام کر رہا ہے؛ روسی دعوؤں کہ عمارت میں غیر ملکی کرائے دار تھے، متعلقہ حکام نے مسترد کیا۔

بین الاقوامی ردعمل

ایک 19ویں صدی کی عمارت جسے قید خانے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور اب نیشنل میوزیم-میموریل ہے بھی ٹھیس پہنچنے والی عمارتوں میں شامل ہے۔ یوکرین کی ثقافتی وزارت زخمی ورثے کی رسیدگی اور ثبوت جمع کر رہی ہے اور یونیسکو کو رپورٹ بھیجنے کی تیاری میں ہے؛ یونیسکو نے نقصان پر گہری فکر کا اظہار کیا اور عالمی کنونشنز کے تحت ورثے کے تحفظ کی تاکید کی ہے۔ حکومت نے ثقافتی شعبے میں روس پر پابندیوں اور بین الاقوامی محافل سے الگ کرنے کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ قومی یادداشت کے ادارے نے روس کو یونیسکو سے نکالنے کی اپیل بھی شروع کی ہے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...