امریکہ-اسرائیل جنگ نے BRICS میں اختلافات عیاں کیے
خلاصہ: ایران، جو 2024 میں BRICS میں شامل ہوا، بلاک سے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت اور علاقائی استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ بلاک کی صدارت کرنے والے بھارت نے تاحال طرفداری سے گریز کرتے ہوئے تحمل، تشدد میں کمی اور بات چیت کی اپیل کی ہے اور ممبران کے درمیان شیرازہ بندی کے لیے شیربا چینل کے ذریعے گفت و شنید کی کوششیں کی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ BRICS کی توسیع نے اندرونی اختلافات بڑھا دیے ہیں، خاص طور پر خلیجی ریاستیں ایران کے بارے میں محتاط ہیں، اسی لیے مشترکہ رائے یا کسی فعال مداخلت کی توقع محدود محسوس ہوتی ہے۔ توانائی کے راستے اور ہرمز تنگی کی بندش جیسے معاملات بھارت کے توازن کی پالیسی کو سخت امتحان میں ڈال رہے ہیں۔
ایران نے BRICS سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرے اور علاقائی استحکام کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ ایران 2024 میں BRICS کا رکن بنا تھا جبکہ اس وقت اس گروپ کی صدارت بھارت کے پاس ہے۔ نئی صدارت رکھنے والے بھارت نے تنازعہ میں غیر جانب دار رہتے ہوئے تحمل، تشدد میں کمی اور مذاکرات کی حمایت کی ہے، اور شیربا چینل کے ذریعے ممبران کے درمیان بات چیت کی کوششیں کر رہا ہے۔
ماہرین اور تجزیہ کار BRICS کی محدود صلاحیت کی نشاندہی کرتے ہیں؛ توسیع کے بعد اندرونی اختلافات گہرے ہو گئے ہیں اور بعض خلیجی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، ایران کے معاملے میں محتاط رویہ رکھتے ہیں۔ کئی اراکین ایسے بھی ہیں جو امریکہ کی مخالفت میں واضح موقف اختیار نہیں کرنا چاہتے، اس لیے مشترکہ بیان یا مداخلت کے امکانات ضعیف ملاحظہ ہوتے ہیں۔
بھارت کی پوزیشن کو توانائی کے مفادات اور علاقائی تعلقات نے پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین نے بتایا ہے کہ ہرمز کی بندش سے بھارت کی توانائی رسد متاثر ہو سکتی ہے، جب کہ تہران نے بعض صورتوں میں بھارت کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینا شروع کی ہے، جو باہمی سیاسی اشاروں کی توقع ظاہر کرتا ہے۔ تہران کے اعلیٰ حکام نے بھی نئی دہلی سے بات چیت کی ہے تاکہ BRICS کو فعال کرنے کی درخواست کی جا سکے۔
موجودہ بحران نے BRICS میں سیاسی تضادات کو نمایاں کیا ہے اور اس نے گزشتہ چیلنجز مثلاً یوکرین جنگ کے دوران پیدا ہونے والی حدود کی یاد دہانی کرائی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت بطور چیئر بیانات جاری کر کے یا بلاک کو ثالث کاری کے لیے متحرک کر کے کردار ادا کر سکتا ہے، مگر عملی اتفاق رائے اور مؤثر مداخلت کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
یہ خبر دستیاب معلومات کی بنیاد پر اردو میں دوبارہ مرتب کی گئی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں