پوپ لیؤ XIV نے ہفتے کو موناكو کا دورہ کرتے ہوئے اس چھوٹے ملک کے امیر رہائشیوں سے اپیل کی کہ اپنی خوشحالی کو قانون اور انصاف کی خدمت میں لگائیں اور ریاست کے 'چھوٹے پن' کو مثبت مقصد کے لیے استعمال کریں۔ یہ 1538 کے بعد موناكو کا پہلا پوپیکل دورہ تھا۔
پوپ لیؤ XIV نے موناكو کے شاہی محل کے بالکونی سے خطاب میں مظبوط طبقاتی خلیجوں کی مذمت کرتے ہوئے امیر طبقے سے کہا کہ اپنی دولت کو قانون اور انصاف کے فروغ میں لگائیں۔ انھوں نے چھوٹی ریاست کی خوبی کو مثبت انداز میں بروئے کار لانے پر زور دیا اور یہ دورہ 1538 کے بعد موناكو میں پہلا پوپیکل دورہ تھا۔
ملاقات اور مراسم
روم سے تقریباً نوے منٹ کی پرواز کے بعد پوپ کو ہیلی پورٹ پر شہزادہ البرٹ دوم اور شہزادی شارلین نے خوش آمدید کہا؛ انھوں نے پہنچنے پر کہا کہ تقریباً تین منٹ تاخیر ہوئی۔ محل میں خواتین نے عام وٹیکن پروٹوکول کے مطابق سیاہ لباس اور سر ڈھانپ رکھا تھا، جب کہ شارلین سفید پہن کر "le privilege du blanc" کا استحقاق ظاہر کر رہی تھیں۔ پوپ نے شہزادہ کو واٹیکن کے موزیک اسٹوڈیو کی طرف سے تیار کردہ سنت فِرانسس کی تصویر تحفے میں دی، اور موناكو کی کیتھیڈرل کا دورہ اور قریبی اسپورٹس اسٹیڈیم میں عشاءِٰی اجتماع بھی شامل تھا۔
بالکونی سے فرانسیسی میں دئیے گئے خطاب میں پوپ نے طاقت و قوت کے نام پر دنیا میں پھیلنے والے تنازعات کے تناظر میں امتیازات اور ناانصافی کو خطرۂ امن قرار دیا اور کہا کہ دولت کو عدل و قانون کی خدمت میں لایا جانا چاہیے۔
موناكو میں کیتھولک ازم سرکاری مذہب ہے اور شہزادہ البرٹ نے گذشتہ سال ایک متنازع بل کو روک کر مذہبی حیثیت کو اجاگر کیا تھا — اگرچہ وہ اقدام تکینیکی طور پر محدود اثر رکھتا تھا کیونکہ موناكو فرانس سے گھرا ہوا ہے جہاں اس مسئلے کا الگ آئینی سیاق ہے۔ شہزادہ نے پوپ کے دورے کو ریاست کی مذہبی اہمیت کی واضح علامت قرار دیا، جیسا کہ انھوں نے فرانسیسی اخباریہ Nice-Matin کو کہا۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
Comments
Post a Comment