Skip to main content

کیا پاکستان نے افغانستان میں حفاظتی پٹی قائم کی؟

World | Deutsche Welle

پاکستان کی فوج نے افغان سرحدی علاقوں میں بمباری میں اضافہ کیا ہے اور کچھ میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد افغان علاقے میں 32 کلومیٹر تک پھیلنے والی 'بفر زون' قائم کر رہا ہے، حالانکہ یہ دعویٰ آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں۔ سرحدی جھڑپوں، سویلین اموات اور خوراک و طبی اشیاء کی قلت کی اطلاعیں موصول ہوئی ہیں۔ پشتون قبائلی رہنماؤں کی پشاور میں ہونے والی جرگہ نے فوری جنگ بندی اور بات چیت کا مطالبہ کیا ہے، مگر صورت حال غیر یقینی برقرار ہے۔

پاکستان کے فوجی آپریشنز اور سرحد پار بمباری کے درمیان یہ سوال اٹھا ہے کہ آیا اسلام آباد افغان سرحد کے اندر کسی طرح کی حفاظتی پٹی قائم کر رہا ہے۔ پشاور میں 31 مارچ کو منعقدہ "پاکستان-افغانستان امن جرگہ" نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کیا، مگر اس قرارداد کے عملی اثرات ابھی واضح نہیں ہیں۔

مقامی اطلاعات کے مطابق خُصوصی طور پر پاکسرحد سے ملحقہ مشرقی صوبوں پکتیا، کنڑ اور نورستان میں توپ، ڈرون حملے اور سڑکیں بند ہونے کی شکایات آئیں۔ طالبان کے مطابق کنڑ میں ایک شہری ہلاک اور 17 افراد زخمی ہوئے؛ نورستان کے کماندیش اور برگِ متال ضلعوں میں خوراک، ایندھن اور ادویات کے شدید قلت کی اطلاعات ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹس نے کابل میں ایک ڈرون حملے میں کم از کم 143 افراد کے ہلاک ہونے کی نشاندہی کی، جسے ہیومن رائٹس واچ نے غیرقانونی حملہ قرار دیا؛ اسلام آباد نے عسکری اہداف پر درست حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

سرحدی دعوے اور ردعمل

کچھ پاکستانی ذرائع نے افغان علاقے میں 32 کلومیٹر تک پھیلنے والی بفر زون کی رپورٹیں دیں، مگر یہ بات آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوئی اور رسمی طور پر اسلام آباد نے ایسی کسی باضابطہ پالیسی کی تصدیق نہیں کی۔ ریاض کے سیکورٹی تجزیہ کار علی چشتی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ یہ وقتی اقدام ہے، جب کہ دوسرے مبصران نے اس طرح کی پیش رفت کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دینے کا خدشہ ظاہر کیا۔ تاریخی طور پر اس سرحد کو دوراند لائن کہا جاتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان اس کا سیاسی تناظر پیچیدہ ہے۔

جنگ بندی کے مطالبات اور کابل کے مذاکراتی اشاروں کے باوجود یہ واضح نہیں کہ موجودہ کشیدگی سیاسی حل کی طرف بڑھے گی یا طویل سرحدی عدم استحکام کو جنم دے گی۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں تحریکِ طالبانِ پاکستان کے خلاف ہیں، مگر محدود معلومات اور متضاد دعووں نے صورتحال کو غیر یقینی بنا رکھا ہے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...