Skip to main content

مڈل ایسٹ جنگ کے بعد افریقہ میں ایندھن کی کمی

World | Deutsche Welle

ایران پر جنگ کے ایک ماہ بعد افریقہ میں ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اچانک اضافہ سامنے آیا ہے۔ کینیا میں پٹرول اسٹیشنوں پر تقریباً 20 فیصد تک کمی، تنزانیہ میں پمپ پر قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد اضافہ، اور ایتھوپیا میں حکومتی منصوبوں کو ایندھن کی ترجیحی فراہمی جیسی صورت حالیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے پاس بھی ریفائننگ کی محدود صلاحیت اور قرضوں کی وجہ سے حل دشوار ہیں، جبکہ ماہرین فوری مارکیٹ مداخلت اور قیمت کنٹرول کی تجویز دے رہے ہیں۔

مڈل ایسٹ جنگ کے باعث افریقہ کا ایندھن کا بحران گہرا ہوا ہے اور براعظم میں فی الوقت قابلِ عمل حل محدود نظر آتے ہیں۔ کینیا میں ایندھن کی فراہمی میں تقریباً 20 فیصد کمی رپورٹ ہوئی ہے، جب کہ تنزانیہ میں پمپ پر قیمتیں 30 فیصد سے زائد بڑھ چکی ہیں اور ایتھوپیا میں سپلائرز کو سرکاری منصوبوں اور بڑی صنعتوں کو اولین فراہمی کا حکم دیا گیا ہے۔

تیل پیدا کرنے والے بعض ممالک کے پاس خام ذخائر ہونے کے باوجود اپنی ریفائننگ صلاحیت کم ہے: جنوبی سوڈان بجلی پیدا کرنے کے لیے محدود ریفائن شدہ تیل استعمال کرتا ہے، اور نائجیریا اپنی سماجی اور ریاستی ریفائنریز کو بہتر بنانے کی کوششوں کے باوجود خام تیل برآمد کر کے پیٹرول مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ کچھ افریقی ریاستیں قرضوں کے بدلے تیل کی فراہمی پر منحصر ہیں، جس سے ملکی ضروریات پوری کرنا مشکلات کا باعث بنتا ہے۔

خطے پر ممکنہ اثرات اور تجاویز

اقوامِ متحدہ کے ماہرین کا خدشہ ہے کہ برقی پن پر پہلے سے کم پہنچ کے باعث بجلی کی قلت بڑھے گی اور فیکٹریاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ ماہر آتیہ وارس نے فوری قیمت کنٹرول اور دیگر ہنگامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جیسے کہ کام کے طریقوں میں تبدیلیاں تاکہ گھریلو ایندھن کی رسائی یقینی بن سکے۔

کچھ ملک فوری ریلیف کے لیے پالیسیاں پر کام کر رہے ہیں: جنوبی افریقہ حکومت پمپ پر اثرات کم کرنے کے لیے متفق دکھائی دی ہے، جبکہ اپوزیشن نے لیویز کم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ متبادل میں خام تیل کی مقامی ریفائنریز کو دوبارہ چلانے یا نائجیریا کے ڈینگوٹ جیسی بڑی ریفائنریز سے تیار ایندھن خریدنے کے امکانات زیرِ غور ہیں، اگرچہ ریفائنریز دوبارہ شروع کرنے کے ماحولیاتی اور لاگت کے پہلو بھی اہم ہیں۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...