Skip to main content

ایرانی اسٹیل کارخانوں پر حملے، معیشت کو بڑا دھچکا

World | Deutsche Welle

ایران کے دو بڑے اسٹیل کارخانے — مبارکہ (اصفہان) اور خوزستان (اہواز) — پر ہونے والے فضائی حملوں نے ملک کی اسٹیل پیداوار اور برآمدی صلاحیت کو کھٹکا پہنچایا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اسٹوریج اور بجلی کے بنیادی نظام کو نقصان پہنچا، خوزستان کی پیداوار رک گئی جبکہ مبارکہ جزوی طور پر چل رہا ہے۔ ماہرین نے براہِ راست نقصانات کا تخمینہ 5 تا 6 ارب ڈالر لگایا ہے اور نشاندہی کی ہے کہ طویل المدتی نقصان، پابندیوں، مہنگائی اور محنت کشوں کے ہجرت کے خطرے کے ساتھ تعمیراتی اور صنعتی زنجیروں میں پھیل سکتا ہے۔

ایران کے دو بڑے اسٹیل کارخانوں، مبارکہ اسٹیل (اصفہان) اور خوزستان اسٹیل (اہواز)، پر فضائی حملوں سے ملکی اسٹیل شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کے نتیجے میں پیداواری اور برآمدی صلاحیت کم ہونے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ رپورٹوں کے مطابق ذخیرہ و توانائی کے بنیادی ڈھانچوں، آئرن و اسٹیل ورکشاپس اور الائے اسٹیل لائنوں کو نقصان پہنچا ہے؛ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق خوزستان کی پیداوار مکمل طور پر رک گئی جبکہ مبارکہ کو کچھ نقصان کے باوجود جزوی طور پر چلتے بتایا گیا۔ عالمی اسٹیل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق ایران 2025 میں خام اسٹیل پیداوار میں نمایاں رہا، جب کہ مبارکہ کے برآمدی ریکارڈ سے کمپنی نے مارچ 2025 تا جنوری 2026 میں 860 ملین ڈالر کمائے۔

ممکنہ معاشی اثرات

ماہرین نے براہِ راست نقصانات کا تخمینہ 5 سے 6 ارب ڈالر لگایا ہے اور کہا ہے کہ اثرات تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور دیگر ذیلی شعبوں تک پھیل سکتے ہیں۔ اسٹیل کی صنعت پابندیوں کے باوجود غیر تیل آمدنی کا اہم ذریعہ رہی ہے، اس لیے اس شعبے میں طویل المدتی تنزّل قومی آمدنی اور برآمدات پر واضح اثر ڈال سکتا ہے۔ کچھ متاثرہ یونٹس تکنیکی طور پر چند ماہ میں بحال ہو سکتے ہیں، مگر کم منافع والے حصے دوبارہ تعمیر کے قابل نہ رہنے پر درآمد کو اقتصادی حل بننے کا امکان رکھتے ہیں۔

سماجی سطح پر خوزستان میں لگ بھگ 10 ہزار کارکن مصروف عمل ہیں اور طویل بندش سے ٹھیکیداروں، سپلائرز اور مقامی معیشت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کی طوالت ریاستی وسائل کو محاذ پر مرکوز کرے گی، اور پابندیوں، افراطِ زر اور طویل مدتی انتظامی کمزوریوں کے باعث بحالی مشکل تر ہو سکتی ہے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...