یکم اپریل کو وائٹ ہاؤس سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سختی، امریکی تیل خود کفالت اور ملک میں آنے والی سرمایہ کاری کے بارے میں دعوے کیے۔ ڈی ڈبلیو کی جانچ پڑتال کے مطابق ان میں کئی دعوے گمراہ کن یا غلط ثابت ہوئے: بعض اعلیٰ ایرانی رہنماؤں کی ہلاکت پر مبنی ‘نظام تبدیلی’ کا دعویٰ مبہم ہے، امریکہ خلیجی تیل سے مکمل علیحدگی کا مؤقف غلط ہے، اور سرکاری اعداد و شمار $18 ٹریلین سرمایہ کاری کے دعوے کی تائید نہیں کرتے۔
صدر ٹرمپ نے یکم اپریل کو ایران پر عسکری کارروائی کی دھمکی دی اور کہا کہ عسکری مقاصد جلد پورے ہونے کے قریب ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی fact check میں ان کے خطاب کے چند اہم دعووں کو گمراہ کن یا غلط قرار دیا گیا۔
اہم دعوے اور حقیقت
ٹرمپ کا یہ کہنا کہ "ان کے اصل رہنما سب مر چکے ہیں اور اس سے نظام خود بخود تبدیل ہوا" ڈی ڈبلیو کے مطابق گمراہ کن ہے۔ اگرچہ جنگ کے دوران کئی اعلیٰ عہدیدار قتل ہوئے، اور آرٹیکل کے مطابق سپریم لیڈر کو ان کے بیٹے مجتبیٰ کھامنئی نے بدل دیا، اہم سرکاری عہدے اب بھی موجود ہیں — صدر مسعود پیراشکیان، وزیر خارجہ عباس ارغچی اور چیف جسٹس غلامحسین محسنی اجیئی سمیت — اس لیے یہ بحث کے قابل ہے کہ کیا واقعی ‘نظام تبدیلی’ ہوئی۔
ٹرمپ کا دعویٰ کہ امریکہ "مکمل طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تیل سے آزاد" ہے غلط ثابت ہوا۔ امریکہ خام تیل کا سب سے بڑا پیداواری ملک ضرور ہے، مگر اب بھی تیل درآمد کرتا ہے: 2025 میں خلیجِ فارس سے آنے والا حصہ درآمد شدہ خام تیل کا 8.5 فیصد تھا (تقریباً 250 ملین بیرل) اور مشرقِ وسطیٰ سے امریکی امپورٹس 2025 میں 56.9 ارب ڈالر تک تھیں۔ ماہرین کے مطابق خودکفالت بڑھنے کے باوجود عالمی منڈی کے اثرات سے مکمل علیحدگی ممکن نہیں۔
سرمایہ کاری کے بارے میں ٹرمپ کا $18 ٹریلین کا دعویٰ بھی غلط قرار پایا۔ وائٹ ہاؤس کی سرکاری فہرست میں کل رقم تقریباً $10.5 ٹریلین درج ہے، اور کچھ بڑے وعدے ایسی معیشتوں کے مقابلے میں غیر حقیقی دکھائی دیتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو نوٹ کرتی ہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ ماہوں میں مختلف اعداد بتائے ہیں، جو یکساں نہیں رہے، اور ان بیانات کو صیحح اعداد و شمار سے تقویت حاصل نہیں۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
Comments
Post a Comment