Skip to main content

ایران جنگ: یورپ توانائی بحران کی تیاری

World | Deutsche Welle

ایران تنازع کے دوسرے مہینے میں یورپی کمیشن نے 400 ملین سے زائد شہریوں سے توانائی بچانے، کم سفر کرنے اور دور دراز کام کرنے کی اپیل کی ہے۔ تیل و گیس کی قیمتیں جنگ کے آغاز کے بعد تیزی سے بڑھی ہیں اور خلیجی راستے کی بندش، فراہم کنندگان کے نقصان اور ایل این جی کارگو کی ایشیا منتقلی کے باعث سپلائی کا کساؤ خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بروئۓ یورپ اور تجزیہ کار مستحکم توانائی، صنعت کے لیے معاونت اور قابلِ تجدید توانائی میں تیزی کی سفارش کر رہے ہیں۔

یورپی کمیشن نے ایران جنگ کے باعث بڑھتے ہوئے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے شہریوں سے ایندھن اور توانائی کی بچت کی اپیل کی ہے، اور بلاک میں سفر کم کرنے، گھر سے کام کرنے اور عوامی نقل و حمل استعمال کرنے کی تلقین کی ہے۔ ای یو کے توانائی کمشنر نے خاص طور پر ڈیزل اور جیٹ ایندھن بچانے پر زور دیا۔

صورتِ حال پرائسنگ اور رسد دونوں طرف دباؤ ڈال رہی ہے: امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تیل و گیس کی قیمتیں بعض اوقات 70 فیصد تک بڑھ گئیں، خلیجی ممالک پر میزائل و ڈرون حملے اور تنگِ ہرمز کی بندش نے عالمی فراہمی متاثر کی ہے۔ یورپی کمیشن صدر کے مطابق محض پہلے دس دنوں میں یورپ کو فوسل ایندھن کی درآمد پر اضافی اربوں یورو خرچ کرنا پڑے، اور برُوگل کی رپورٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ آئندہ سالوں میں آمدنی کو نمایاں بڑھا سکتا ہے۔

ممکنہ حکمتِ عملیاں

کچھ رہنماؤں نے روس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی بات کی مگر توانائی کے سربراہ نے روسی توانائی درآمد نہ کرنے کا عندیہ دیا۔ ماہرین ممکنہ جواب کے طور پر صنعت کو سبسڈیز، بجلی پر ٹیکس میں کمی، کارکردگی بڑھانے اور مقامی گرین انڈسٹریز میں سرمایہ کاری تجویز کرتے ہیں، جبکہ قیمتوں کو دبانے جیسے اقدامات پر تنبیہ بھی کی گئی کہ وہ لامحالہ توانائی کے استعمال اور صفائی توانائی کی منتقلی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

ماہرین خبردار ہیں کہ سپلائی کم رہنے اور ایشیا کے ساتھ مقابلے سے مختصر مدت میں صنعت، کھاد کی فراہمی، مینوفیکچرنگ چینز اور ہوا بازی متاثر ہو سکتی ہیں؛ قطر کے اہم گیس کمپلیکس کو پہنچا نقصان اور بعض ایل این جی کارگو کی ایشیا منتقلی اس کشیدگی کی دیرپا سمت کی علامت ہیں۔ یورپ کو مختصر مدت کی بچت کے ساتھ ساتھ قابلِ تجدید توانائی اور الیکٹرکائیزیشن پر تیزی سے کام شروع کرنے کی سفارش کی جا رہی ہے۔


ماخذ: World | Deutsche Welle

Comments

Popular posts from this blog

عرفان سلیم کو کور کمانڈر کا گھر جلانے کا معاؤضہ مل گیا!

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، باغی کارکنوں کو عمران خان کے حکم پر رقوم اور عہدوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ان کی کوشش تھی کہ اپنے "ریٹ" کچھ مزید بڑھا سکیں۔ اس پر گنڈاپور نے عرفان سلیم کے سرپرست ایم این اے کو فون کیا اور کہا: "اسے سمجھاؤ، تم جانتے ہو کہ یہ اڈیالہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سب سے پہلے اسی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا، اور بات صرف اسی پر ختم نہیں ہوگی!" ایم این اے صاحب نے عرفان سلیم سے ملاقات کی۔ تیمور جھگڑا بھی ساتھ تھے۔ عرفان سلیم دھمکی سن کر سہم تو گیا لیکن پھر بھی پوچھ لیا کہ : "بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟" اسے بتایا گیا کہ مرزا آفریدی خود فون کرکے بتائیں گے (یعنی رقم خود طے کر لینا)۔ عرفان سلیم نے دوبارہ اصرار کیا: "عہدہ کیا ملے گا؟" جواب ملا: "تمہیں سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں گے۔" اس پر عرفان سلیم نے جواب دیا: "ابھی فوراً سپیشل اسسٹنٹ نہ بنائیں، ورنہ میرے ساتھی کارکن مجھے کھا جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے اتنے بڑے بڑے ڈائلاگ مارنے کے بعد ایک سپیشل اسسٹنٹ پر بک گئے؟" جب یہ معاملات طے پا گئے تو عمران خان ...

عافیہ صدیقی کی اصل کہانی

عافیہ صدیقی ایک مالدار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے دو شادیاں کیں، اور دونوں شادیاں اُن کی اپنی پسند سے تھیں۔ امریکہ کے مطابق وہ القاعدہ کی رکن تھیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے اُن کا نام لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، قید کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ کی، جس کے باعث اُنہیں سزا سنائی گئی۔ نہ پاکستان نے کبھی یہ کہا کہ ہم نے عافیہ کو گرفتار کیا، اور نہ ہی امریکہ نے کبھی یہ کہا کہ پاکستان نے اُسے ہمارے حوالے کیا۔ عافیہ افغانستان گئی تھیں، جہاں وہ افغان فورسز کے ہاتھ لگیں۔ افغان حکام نے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے اعتراف کیا ہے، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ عافیہ صدیقی بگرام جیل کی "قیدی نمبر 650" نہیں تھیں۔ جن معظم بیگ کے بیان کی بنیاد پر اُنہیں یہ نمبر دیا گیا، وہ خود 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانامو بے منتقل ہو چکے تھے۔ اُس وقت عافیہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں موجود تھیں۔ وہ...

کوہستان کرپشن سکینڈل

۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل بنیادی طور پر ضلع کوہستان میں مختلف ترقیاتی کاموں کے نام پر نکالے گئے سرکاری فنڈز کا ایک میگا کرپشن کیس ہے، جس میں جعلی کمپنیوں کی مدد سے تقریباً 40 ارب روپے کی رقم نکالی گئی۔ یہ رقوم ایسے 'ترقیاتی کاموں' کے لیے نکالی گئیں جو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ کوہستان میں حالیہ بارشوں میں دوبارہ لوگ ڈوبے ہیں۔ وہاں تو ضروری پل بھی نہیں بنے ہیں۔ یہ بدعنوانی 2019ء سے دسمبر 2024ء تک جاری رہی۔ اس کرپشن اسکینڈل میں اعظم سواتی کا نام سب سے نمایاں ہے، جبکہ اس کا مرکزی ملزم ایک ٹھیکیدار محمد ایوب ہے، جس نے پشاور ہائی کورٹ میں پلی بارگین کی درخواست بھی دی ہے، یعنی وہ کرپشن تسلیم کر رہا ہے لیکن "کچھ لو کچھ دو" پر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اعظم سواتی کا 25 کروڑ کا بنگلہ اسی محمد ایوب نے 60 کروڑ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اعظم سواتی نے یہ جعلسازی بھی کی کہ جائیداد کا انتقال 2016ء کی تاریخوں کا دکھایا جائے تاکہ خرید و فروخت پر سوال نہ اٹھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سکینڈل میں اعظم سواتی کا حصہ 4 ارب روپے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے ...