صدر الیگزاندر ووچیچ نے مقامی انتخابات میں سرربیائی ترقی پسند پارٹی (SNS) کی تمام دس میونسپلٹی جیتنے کا اعلان کیا۔ کل 247,985 اہلِ رائے دہندگان میں سے ووٹنگ کے دن بے ضابطگیاں، مبینہ رشوت خوری، ووٹر پریشر اور منظم تشدد رپورٹ ہوا۔ آزاد مبصرین نے انتخابی دن کو شہریوں پر 'دہشت' قرار دیا جبکہ کئی مقامات پر جیت تنگ مارجن سے طے ہوئی، جو حکمران جماعت کے لئے تشویش کا باعث بن سکتی ہے اور اگلے پارلیمانی امتحان پر توجہ مرکوز کر سکتی ہے۔
صدر الیگزاندر ووچیچ نے شبِ انتخابات سرربیائی ترقی پسند پارٹی (SNS) کی فتح کا اعلان کیا جب دس میونسپلٹیوں میں انتخابی نتائج کے مطابق جماعت نے سبھی نشستیں جیت لیں۔ ان انتخابات کے لیے 247,985 افراد ووٹ دینے کے اہل تھے، مگر فطری تصویر میں کئی سنگین شکوک و شبہات بھی شامل تھے۔
بدامنی اور شکایات
مبصرین نے ووٹ خریداری، ووٹر پر دباؤ، متوازی ووٹر فہرستیں اور ‘‘بلغاریائی ٹرین’’ جیسی منظم بے ضابطگیوں کی رپورٹس دی ہیں۔ انتخابی دن پر ماسک پہنے افراد لاٹھیاں اور بعض اوقات کلہاڑیاں لے کر شہریوں، رپورٹرز اور مبصرین پر حملے کرتے دکھائی دیے، اور کئی صحافی زخمی ہوئے یا اسپتال گئے۔ CRTA کے مشن کے سربراہ نے انتخابی دستاویزات بنانے یا غیر قانونی عمل روکنے کی کوشش کرنے والوں پر طاقت کے استعمال کی نشاندہی کی اور منتخب دن کو شہریوں کے خلاف 'دہشت' قرار دیا گیا۔
حکومتی حامی میڈیا اور بعض سرکاری شخصیات نے ان واقعات کو مختلف انداز میں بیان کیا، جبکہ پولیس کی کارروائی بعض مقامات پر تاخیر یا ناکافی محسوس کی گئی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ تشدد منظم طریقے سے جاری رہا۔
نتائج کے سیاسی نتائج بھی قابلِ غور ہیں: کئی میونسپلٹیوں میں SNS کی جیت بہت کم مارجن سے طے ہوئی اور کچھ جگہوں پر جماعت کو اتحاد شراکت داروں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نشانیاں حکمران جماعت کی حمایت میں درز کا عندیہ دیتی ہیں۔ اب توجہ ممکنہ قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کی طرف مبذول ہو رہی ہے، اور مبصرین شفاف انتخابی حالات کے لیے مسلسل دباؤ کے حق میں ہیں۔
ماخذ: World | Deutsche Welle
Comments
Post a Comment